حیاتِ نور — Page 38
۳۸ آج اس بات کو شاید پچاس برس کے قریب زمانہ گزرتا ہے لیکن وہ لذت ابتک بھی فراموش نہیں ہوئی۔اگر چہ ادعیہ مسنونہ کی برابری یہ دعا نہیں کر سکتی مگر معلوم نہیں کہ کیسے دل سے نکلی تھی جس میں عجیب قسم کا اثر ہے۔۵۸ گنہ چھاؤنی کی ویران مسجد میں قیام ـور کچھ روز وہاں قیام کرنے کے بعد آپ گنہ چھاؤنی پہنچے۔راستہ میں پیدل چلنے کی وجہ سے آپ کے پاؤں زخمی ہو گئے تھے اور آپ تھک کر چُور ہو گئے تھے اور اب مزید چلنے کی سکت بالکل باقی نہ تھی ایک ویران سی مسجد میں ڈیرہ لگا لیا۔بہت رات گئے ایک نمازی آیا۔آپ نے دیر سے آنے کی وجہ دریافت کی۔اس نے کہا ہم کاروباری لوگ بڑے اتفاق سے یہاں رہتے تھے لیکن رفع یدین اور آمین بالجبر کے جھگڑے کی وجہ سے قریب تھا کہ یہ مسجد گنج شہیداں ہو جائے۔آخر ایک دنیا دار نے کہا کہ تم سب گھروں میں نمازیں پڑھا کرو لیکن میرا دل چونکہ مسجد کے سوا نہیں لگتا اس لئے میں ایسے وقت مسجد میں آتا ہوں جبکہ کوئی آدمی مجھے مسجد آتا نہ دیکھ سکے۔آپ نے اُسے کہا اگر ممکن ہو تو کل ان لوگوں کو بلا کہ ہم ان کو کچھ سُنانا چاہتے ہیں۔وہ نماز پڑھ کر چلا گیا اور کچھ دیر کے بعد کھچڑی لایا۔جو آپ اور آپ کے ایک افغان ساتھی محمود نامی دونوں کے لئے کافی تھی۔دوسرے دن وہ بہت سے آدمیوں کو بلا لایا۔آپ نے انہیں سمجھایا کہ دیکھو خدا تعالیٰ واحد ہے، رسول واحد ہے، کتاب واحد ہے، قبلہ توجہ واحد ہے، فرائض میں بھی قریباً با ہمی اشتراک ہے۔پھر تم چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے ایک عظیم الشان کام یعنی نماز با جماعت کو کیوں چھوڑتے ہو۔آپ کی اس تقریر کا ان لوگوں پر بہت اچھا اثر پڑا۔اور انہوں نے مسجد آنا شروع کر دیا۔گنہ چھاؤنی سے نکل کر آپ نے ابھی تھوڑا ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ ایک زمیندار نے آپ کو کہا کہ جس سڑک پر آپ لوگ چل رہے ہیں اس پر مری یعنی ہیضہ ہے۔لہذا آپ دوسری سڑک پر چلیں۔لیکن آپ کے افغان ساتھی نے اس کی نصیحت کی پروانہ کی۔آپ نے بھی روکا۔مگر اس نے کہا خبر واحد ہے کیا اعتبار۔ابھی چند منٹ ہی چلے تھے کہ محمود خود ہیضہ میں مبتلا ہو گیا اور ایک ہی اجابت نے اُسے بالکل مضمحل کر دیا۔ایک گاؤں میں داخل ہونے کی کوشش کی۔مگر اہل قریہ نے روک دیا۔نا چارا ایک امی کے درخت کے نیچے آپ نے ڈیرہ لگالیا۔باوجود علاج اور کوشش کے محمود دو تین روز کے بعد فوت ہو گیا۔گاؤں کے نمبر دار دفن کرنے کے لئے گڑھا کھدوانے پر ایک زر خطیر لے کر راضی ہوا۔جب قبر تیار ہوگئی تو آپ نے محمود کو خود اُٹھا کر قبر میں اُتارا۔اور مٹی برابر کرنے کے بعد نماز جنازہ یاد آئی۔اس حق - فاقت ادا کرنے اور کئی روز تک کھانانہ ملنے کی وجہ سے آپ نے بہت تکلیف اُٹھائی۔