حیاتِ نور

by Other Authors

Page 39 of 831

حیاتِ نور — Page 39

ــور ۳۹ اب اول مگر خدا تعالیٰ مسبب الاسباب ہے۔اس گاؤں میں مسلمانوں کا صرف ایک ہی گھر تھا۔صاحب البیت کا نام تھا گر جن اور اس کے بھائی کا نام تھا ارجن۔اور جس کو آپ نے اپنی مدد کے لئے ہر چند کہا تھا۔مگر اس نے صاف انکار کر دیا تھا۔اس کا اکلوتا بیٹا ہیضہ میں گرفتار ہو گیا۔کچھ تو مشرکانہ خیال کے باعث اور کچھ اس لئے کہ آپ کو محمود کا علاج کرتے دیکھ چکا تھا، آپ کے پاس دوڑتا ہوا آیا اور کہا کہ ہمارے گھر چلو اور بھوجن بھی کھاؤ۔آپ اس کے ہاں تشریف لے گئے اور لڑکے کو یہ دوا دی۔گل ناشگفتہ عشر (آکہ) تولہ ، سہا گہ بریاں ۵ ماشه، دار فلفل ۵ ماشہ، لونگ ۵ ماشہ، زنجبیل ۵ ماشہ، گولی بنائی اور نیم کے انتر چھال کے پانی کے ساتھ دی اور لہسن کوٹ کر اس کے ناخنوں کے ساتھ باندھ دیا۔لڑکا سنبھل گیا۔اس کی ماں نے تازہ چوکا بنا کر آپ کو بھو جن کھلایا۔بعد ازاں اور بھی بہت سے مریضوں کا آپ نے علاج کیا۔نمبردار نے نہ صرف یہ کہ آپ کا روپیہ واپس کر دیا بلکہ مع آپ کے اسباب کے بھوپال بھی پہنچا دیا۔بھوپال میں ورود جب آپ بھوپال پہنچے تو آپ نے اپنا اسباب معہ نقدی ایک بیرونی سرائے میں رکھا، کپڑے بدلے اور صرف ایک روپیہ رومال میں باندھ کر شہر کو چل دیئے، راستے میں ایک باورچی کی دوکان سے اٹھنی کی روٹی کھائی۔اب اٹھنی باقی تھی۔قلعہ دار سے اجازت حاصل کر کے جب شہر میں داخل ہوئے تو کیادیکھتے ہیں کہ وہ اٹھنی کہیں گر گئی تھی۔جب نقدی لینے کیلئے واپس سرائے میں پہنچے تو اسباب تو بالکل محفوظ تھا مگر روپے ندارد۔دوسرے دن اسباب لے کر شہر میں داخل ہوئے۔فکر تھی کہ اسباب کہاں رکھیں۔جب اس باورچی کی دوکان کے سامنے سے گزرنے لگے جہاں سے ایک روز قبل کھانا کھایا تھا تو اس نے کہا کھانا کھا لو۔آپ نے کتابیں اور سامان اس کی دوکان پر رکھا اور بلا تکلف خوب کھانا کھایا۔دل میں یہ تھا کہ پیسے تو پاس میں نہیں مگر آخر تمام اسباب آٹھ آنہ کا بھی نہ ہو گا ؟ باجی کی مسجد میں قیام بھوپال میں باجی کی مسجد بڑی عمدہ اور ہوادار اور تالاب کے کنارے پر تھی۔آپ کو پسند آئی۔اور آپ نے زیادہ وقت وہیں گزارنا شروع کر دیا جب کئی وقت فاقہ کرتے گزر گئے تو ایک دن یقین ہو گیا کہ آج شام تک شاید نہ بچ سکوں گا۔اس مسجد میں ایک چبوترہ تھا۔عصر کے بعد اس چبوتر و پر پہلے ٹیک لگا کر بیٹھے اور پھر لیٹ گئے۔کمزوری کی وجہ سے بدن سے پسینہ جاری تھا۔