حیاتِ نور

by Other Authors

Page 544 of 831

حیاتِ نور — Page 544

۵۳۹ دیا۔بلکہ آخر پر آ کر وہی بات کہی۔جو مولا نا محمد علی صاحب نے اپنے جواب میں کہی تھی کہ یہ سوالات قبل از وقت ہیں۔ان میں پڑنا صیح نہیں اور آخری فیصلے کے طور پر کہا کہ مجھ پر دونوں فریق کا اعتماد ہے۔اس لئے میری زندگی میں اس سوال کو نہ اٹھایا جائے۔اور اپنی تقریر ختم کر کے پہلے میاں محمود احمد صاحب اور میر ناصر نواب صاحب سے یہ اقرار لیا کہ وہ آپ کی اطاعت کریں گے۔پھر مولانا محمد علی صاحب و خواجہ کمال الدین صاحب سے ایک طرف اور شیخ یعقوب علی اور میر محمد اسحاق سے دوسری طرف بیعت لی اور اس کا منشاء سوائے اس کے اور کچھ نہیں تھا کہ میری زندگی میں میری اطاعت کی جائے۔کیونکہ دونوں فریق یہ کہہ چکے تھے کہ آپ جو کچھ فرما ئیں۔ہم اس کی اطاعت کریں گئے۔" جواب یہ بیان جس قدر حقیقت سے دور ہے اتنا ہی گمراہ کن بھی ہے۔اس بات پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ نے از خود روشنی ڈالی ہے۔آپ فرماتے ہیں: ـور حضرت خلیفة المسح الاول) نے مجھ سے اور نواب محمد علی خان صاحب سے جو میرے بہنوئی ہیں۔رائے دریافت کی۔ہم نے بتایا کہ ہم تو پہلے ہی ان خیالات کے موید ہیں۔خواجہ صاحب کو کھڑا کیا۔انہوں نے بھی مصلحت وقت کے ماتحت گول مول الفاظ کہہ کر وقت کو گزارنا ہی مناسب سمجھا۔پھر فرمایا کہ آپ لوگ دوبارہ بیعت کریں اور خواجہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب سے کہا کہ الگ ہو کر آپ مشورہ کر لیں۔اگر تیار ہوں۔تب بیعت کریں۔اس کے بعد شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم ے کہا کہ ان سے بھی غلطی ہوئی ہے۔وہ بھی بیعت کریں“۔اب دیکھیئے جس انداز میں مصنفین مجاہد کبیر نے ان واقعات کا ذکر کیا ہے۔ان کی تغلیط خود حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے ان بیانات اور تقاریر سے بخوبی ظاہر ہوتی ہے۔جو پیچھے گزر چکے ہیں اور جو آگے آئیں گے۔ان سے قارئین کرام کو حق الیقین ہو جائے گا کہ اول حضرت خلیفۃ المسیح الاول اپنی خلافت کو ہمیشہ آیت استخلاف کے ماتحت پیش فرماتے رہے اور جماعت کو ہمیشہ اتفاق اور اتحاد کی تلقین فرماتے