حیاتِ نور — Page 545
ـور ۵۴۰ رہے۔دوم یہ حضور نے کبھی بھی نہیں فرمایا کہ میری زندگی میں تو خلافت اور انجمن کے سوال کو نہ اٹھاؤ۔بعد میں بیشک اس بحث کو چھیڑ کر جماعت میں سوم انشقاق اور تفرقہ کا بیج بودینا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ اور میر ناصر نواب صاحب سے اطاعت کا اقرار لینے کی ضرورت تو تب پیش آتی جب اس معاملہ میں ان میں کوئی کبھی ہوتی۔وہ تو پہلے ہی حضور پر دل و جان سے فدا تھے۔بلکہ جیسا کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا بیان اوپر گزر چکا ہے۔حضور نے تو آپ سے اور حضرت نواب محمد علی خاں سے رائے دریافت فرمائی تھی۔جس کے جواب میں انہوں نے عرض کیا کہ حضور ہم تو پہلے ہی ان خیالات کے موید ہیں۔چہارم یہ جو لکھا گیا ہے کہ حضرت خلیفہ امسح الاول نے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب کے ساتھ حضرت میر محمد اسحاق صاحب سے بھی بیعت لی تھی۔یہ بھی بالکل خلاف واقعہ بات ہے۔حضرت میر محمد الحق صاحب کا اس واقعہ سے تعلق تو صرف اسقدر تھا کہ انہوں نے وہ خیالات جو غیر مباکین خفیہ خفیہ جماعت میں پھیلا رہے تھے۔انہیں سوالات کے رنگ میں حضرت خلیفہ اسی الاول کی خدمت میں پیش کر دیا۔البتہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب سے ضرور بیعت لی گئی تھی اور وہ بھی اس لئے کہ گو انہوں نے جلسہ خلافت کی تائید میں کیا تھا۔مگر حضور کی اجازت کے بغیر کیا تھا اور چونکہ یہ نظام کی خلاف ورزی تھی۔اس لئے حضور نے ان سے بھی بیعت لی۔اور جو بیعت جناب خواجہ کمال الدین صاحب اور جناب مولا نا محمد علی صاحب سے لی گئی۔اس کا منشاء یقیناً ہی تھا کہ یہ لوگ خلافت کے وقار کو گرا کر انجمن کو بر سر اقتدار لانا چاہتے تھے اور جیسا کہ خود مصنفین مجاہد کبیر نے تسلیم کیا ہے۔یہ چاہتے تھے کہ خلیفہ صرف نماز ہی پڑھا دیا کرے بس۔ان خلاف اسلام عقائد کی وجہ سے یہ لوگ چونکہ احمدی نہیں رہے تھے۔اس لئے