حیاتِ نور — Page 508
ـور اور کسی آدمی کے سہارے سے خود اندر سے باہر اور باہر سے اندر تشریف لے جاتے ہیں۔ماشاء اللہ لاقوۃ الا باللہ۔ڈاکٹری رپورٹ عاجز ( ڈاکٹر ) بشارت احمد علی اللہ عنہ ۲۱ فروری ۱۹۱۱ء ۲۳ حضرت صاحب کی طبیعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے روبصحت ہے۔زخم ایک چوتھائی کے قریب رہ گیا ہے۔پرسوں ایک باریک ہڈی زخم میں سے نکل گئی۔اب کوئی ہڈی بر ہنہ زخم میں نظر نہیں آتی۔طاقت اللہ کے فضل سے آ رہی ہے۔عاجز بشارت احمد عفی عنہ یکم مارچ ۱۹۱۱ء ۲۴ احمدی اور غیر احمدی میں فرق جناب ایڈیٹر صاحب بدر لکھتے ہیں: ۲۷ فروری ۱۹۱۱ء کو قتیل دو پہر حضرت امیر المومنین کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا گیا کہ احمدیوں اور غیر احمد یوں میں کوئی فروعی اختلاف ہے؟ اس پر حضرت امیر المومنین نے جو کچھ اس کا جواب دیا۔میں اس کے مفہوم کو اپنے حافظہ سے اپنے الفاظ میں لکھتا ہوں۔فرمایا۔یہ بات تو بالکل غلط ہے کہ ہمارے اور غیر احمدیوں کے درمیان کوئی فروعی اختلاف ہے۔کیونکہ جس طرح پر وہ نماز پڑھتے ہیں۔ہم بھی پڑھتے ہیں۔اور زکوۃ حج اور روزوں کے متعلق ہمارے اور ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔میری سمجھ میں ہمارے اور ان کے درمیان اصولی فرق ہے اور وہ یہ کہ ایمان کے لئے یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو۔اس کے ملائکہ پر کتب سماویہ پر اور رسل پر، خیر وشر کے اندازوں پر اور بعث بعد الموت پر۔اب غور طلب امر یہ ہے کہ ہمارے مخالف بھی مانتے ہیں اور اس کا دعویٰ کرتے ہیں۔لیکن یہاں سے ہی ہمارا اور ان کا اختلاف شروع ہو جاتا ہے۔ایمان بالرسل اگر نہ ہو۔تو کوئی شخص مومن مسلمان نہیں ہوسکتا۔اور ایمان بالرسل میں کوئی تخصیص نہیں۔عام ہے خواہ وہ نبی پہلے آئے یا بعد میں آئے۔ہندوستان میں ہوں یا کسی اور ملک میں کسی مامور من اللہ کا انکار کفر ہو جاتا ہے۔ہمارے مخالف حضرت مرزا صاحب کی ماموریت کے منکر ہیں۔اب بتلاؤ