حیاتِ نور — Page 32
صاحب سے منبتی پڑھ لی مگر ۳۲ یہ شکایت میں اب بھی کرتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ میں بڑے بڑے علماء کی خدمت میں جاتا تھا کسی نے نہ تو اخلاقی تعلیم دی اور نہ کسی کتاب کا مشورہ دیانہ آئندہ کی ضرورتوں سے آگاہ کیا۔ایک دلچسپ مباحثہ میں کامیابی ایک مرتبہ طالب علموں میں مباحثہ ہوا کہ اہل کمال کسی کو اپنا کمال بتاتے ہیں یا نہیں ؟ آپ کا دعوئی تھا کہ بتاتے ہیں مگر دوسرے طالب علم کہتے تھے کہ نہیں بتاتے۔فیصلہ یہ ہوا کہ یہاں امیر شاہ صاحب عامل ایک با کمال انسان ہیں۔اُن کی خدمت میں حاضر ہو کر فیصلہ کروالیتے ہیں۔جب ان کی خدمت میں پہنچے تو وہ ایک لکڑی کے تخت پر تکیہ لگائے لیٹے ہوئے تھے اور پاس ہی زمین پر ایک چھوٹی سی چٹائی بچھی ہوئی تھی۔بڑے بڑے اور زیادہ مستحق طالب علم اس چٹائی پر بیٹھ گئے باقی زمین پر بیٹھ گئے۔مگر آپ کو چونکہ زمین پر بیٹھنے سے نفرت بلکہ کراہت تھی۔اس لئے آپ ایک کچی دیوار کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔امیر شاہ صاحب نے طالب علموں کو مخاطب کر کے کہا او ملو ! کس طرح آئے" آپ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا۔ایک مقدمہ ہے جس میں یہ سب لوگ مدعی اور میں مدعا علیہ ہوں یا میں مدعی ہوں اور یہ مدعا علیہ ہیں۔آپ سے فیصلہ کروانا چاہتے ہیں۔تب انہوں نے کہا کہ تم کھڑے کیوں ہو؟ میں نے عرض کیا کہ چٹائی بہت چھوٹی ہے۔جو ہمارے اعزاز کے قابل طالب علم تھے وہ بیٹھ گئے ، اب کوئی جگہ نہیں اس لئے میں کھڑا ہوں۔انہوں نے فرمایا تم ہمارے پاس آ جاؤ۔میں فوراً تخت پر اُن کے پاس جا بیٹھا۔طالبعلموں کا تو اسی وقت فیصلہ ہو گیا۔مگر انہوں نے مقدمہ سنگر صاف لفظوں میں مجھ سے کہا کہ تم سچے ہو اور یہ سب غلطی پر ہیں۔میں نے کہا۔بس فیصلہ ہو گیا۔اب جاتے ہیں۔اس کے بعد انہوں نے عملیات کی ایک قلمی ضخیم کتاب آپ کو لا کر دی اور فرمایا کہ یہ میری ساری عمر کا اندوختہ ہے جو میں تم کو دیتا ہوں مگر آپ نے فرمایا کہ میں تو ایک طالب علم ہوں۔مجھے اس کی ضرورت نہیں۔اس پر انہوں نے چشم پر آب ہو کر فرمایا: ہم تم کو دیتے ہیں اور تم لیتے نہیں۔یہ لوگ مانگتے ہیں اور ہم دیتے نہیں۔"