حیاتِ نور — Page 499
۴۹۵ طاقت پہلے کی نسبت بہت اچھی ہے۔غذا بھی خود کھا لیتے ہیں۔ہوش و حواس بالکل درست ؟ درست ہیں۔اور ہر طرح سے بیماری رو بصحت ہے۔آج قریب ساڑھے بارہ بجے دن کے جب میں رخصت ہونے لگا۔تو میں نے پوچھا حضور " کا دل کس چیز کو چاہتا ہے۔آپ نے بجواب فرمایا کہ ” میرا دل یہی چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہو جاوے۔پھر اس کے بعد فرمایا کہ میرا دل یہی چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہو جاوے۔پھر فرمایا کہ میرا اللہ راضی ہو۔پھر فرمایا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ تم فرمانبردار رہو۔اختلاف نہ کریو، جھگڑا نہ کرنا۔پھر فرمایا میں دنیا سے بہت سیر ہو چکا ہوں۔کوئی دنیا کی خواہش نہیں۔مرجاؤں تو میرا مولی مجھ سے راضی ہو۔فرمایا کہ سب کو سنا دو۔" پھر فرمایا میں دنیا کی پروا نہیں کرتا۔میں نے بہت کمایا، بہت کھایا، بہت خرچ کیا۔دنیا کی کوئی حرص باقی نہیں۔پھر فرمایا۔میں نے بہت کمایا۔بہت کھایا۔بہت لیا۔بہت دیا ، کوئی خواہش باقی نہیں۔کبھی کبھی صحت میں اس لئے چاہتا ہوں کہ گھبراہٹ میں ایمان نہ جا تا ر ہے۔پھر بہت دفعہ در دانگیز لہجہ میں فرمایا کہ اللہ ! تو راضی ہو جا۔پھر کئی بار فرمایا۔اللهم ارض عنى اللهم ارض عنی۔اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ میں حضور کے الفاظ سنا دیتا ہوں۔جب دوبارہ یہانتک سنا چکا۔تو فرمایا۔مجھے شوق یہ ہے کہ میری جماعت میں تفرقہ نہ ہو۔دنیا کوئی چیز نہیں میں بہت راضی ہوں گا۔اگر تم میں اتفاق ہو۔میں سجدہ نہیں کر سکتا۔پھر بھی سجدہ میں تمہارے لئے دعائیں کرتا ہوں۔میں نے تمہاری بھلائی کے لئے بہت دعائیں کیں۔مجھے طمع نہیں۔اور ہر گز نہیں۔پھر فرمایا۔مجھے تم سے کوئی دنیا کا طمع نہیں۔مجھے میرا مولیٰ بہت رازوں سے دیتا ہے۔اور ضرورت سے زیادہ دیتا ہے۔خبر دار جھگڑا نہ کرنا۔تفرقہ نہ کرنا۔اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دیگا اور اس میں تمہاری عزت اور طاقت باقی رہے گی نہیں تو کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔پھر فرمایا کہ اگر میں نے کبھی کسی کو حکم دیا ہے۔تو اپنی دلی طمع سے حکم نہیں دیا۔خدا کا حکم سمجھ کر دیا ہے۔نمازیں پڑھو۔دعائیں مانگو دعا بڑا ہتھیار ـور