حیاتِ نور — Page 491
۳۸۷ بھی مفید نہیں ہوتی۔اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں۔کہ بہت دعائیں کرو۔پھر کہتا ہوں کہ بہت دعائیں کرو۔تا کہ جماعت تفرقہ سے محفوظ رہے۔وہ نعمت جو اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل فرمائی تھی۔وہ دعا سے ہی آتی ہے۔میرے لئے بھی دعا کرو کہ میرے وزرا مومن ہوں۔مسلمان ہوں، مخلص ہوں، محسن ہوں، با مروت ہوں، میری مخالفت نہ کریں۔اللہ تعالیٰ مجھے ایسے واعظ نصیب کرے۔جو علی وجہ البصيرة وعظ کریں۔حق شناس ہوں۔ان میں دنیا کی ملونی نہ ہو۔باوجود اخلاص کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رستہ کی پہچان رکھتے ہوں“۔اس قدر بیان کے بعد پھر جوش ہوا۔تو ذیل کے الفاظ بطور تمہ بیان فرمائے: ” میرے تم پر بہت حقوق ہیں۔اول حق تو یہ ہے کہ تم نے میرے ہاتھ پر فرمانبرداری کا اقرار کیا ہے۔جو اقرار کے خلاف کرتا ہے۔وہ منافق ہو جاتا ہے۔میں ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو کہ میری نافرمانی سے کوئی منافق ہو جاوے۔دوسرا حق یہ ہے کہ میں تمہارے لئے تڑپ تڑپ کر دعائیں کرتا ہوں۔تیسر احق یہ ہے کہ میں نماز میں آجکل سجدہ نہیں کر سکتا۔مگر تمہاری بھلائی کے لئے نماز سے بڑھ کر سجدہ میں دعائیں کی ہیں۔پس میری حق شناسی کرو۔اور با ہم تفرقہ چھوڑ دو۔بیرونی انجمنوں کے کارکنوں کو نصیحت میرا مقصد حل نہیں ہوسکتا۔جب تک اس تقریر کا بھی ایک حصہ درج نہ کروں۔جو حضور نے بیرونی انجمنوں کے کارکنوں کو مخاطب کر کے فرمائی۔فرمایا: میں نے آپ لوگوں کو ایک خاص وجہ کے لئے بلایا ہے۔سال گزشتہ میں میرے دل پر ایک رنجید گی تھی کہ آپ لوگ مجھے نہیں ملے تھے۔اس لئے میں نے چاہا تھا کہ اگر آئندہ سال زندہ رہوں۔تو آپ کو ملامت کروں گا۔۔۔ایک حدیث ہے۔اس کا مطلب میں اور ہی سمجھتا تھا۔مگر اب اور سمجھتا ہوں۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قریشیوں کی سلطنت میں زوال نہ ہوگا۔جب تک دو بھی ہوں۔میں قریشی تھا اور مرزا کا بچے دل سے مرید ہو ا۔ہمارے جد بزرگوار میں فرخ شاہ ایک بزرگ کابل میں گزرا ہے۔درہ فرخ شاہ اب تک بھی اس کے ــور