حیاتِ نور — Page 460
۴۵۶ ایک شیعہ کا خط اور اس کا جواب لاہور میں کوئی ایرانی شیعہ واعظ آئے ہوئے تھے۔ایک شیعہ نے جناب ملک غلام محمد صاحب کو کہا کہ ہمارے ایرانی مولوی آئے ہوئے ہیں۔اگر آپ کے خلیفہ صاحب ان کے ساتھ مذہبی گفتگو کرنا چاہیں تو یہ قادیان جانے کے لئے تیار ہیں۔ملک صاحب محترم نے جب حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں یہ بات پیش کی تو حضور نے اجازت دی۔اس پر اس شیعہ نے ایک خط لکھا۔جس میں اولا چند سوالات کئے اور پھر تقریری مناظرہ کی دعوت دی۔نیز لکھا کہ حکم مقرر ہوں۔جس کے جواب میں حضور نے لکھا۔نہ رہا۔ہم کو ہمیشہ تحقیق مد نظر ہے، الحمد اللہ اب میری عمر ستر سے متجاوز ہے۔بہر حال مرنا قریب ہے اگر ہمیں کوئی حق کی راہل جائے تو ہم غلطی پر ہٹ نہ کریں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔مگر حکم کس مذہب کا ہوگا اور اس پر کس طرح اعتماد ہوگا۔نورالدین سے یہ جواب ایسا تھا کہ جس کے نتیجہ میں اس شیعہ دوست کے لئے سوائے خاموشی کے اور کوئی چارہ لاہور سے روانگی ، ۲۵ جولائی ۱۹۱۰ء ۲۵ جولائی کی شام کو حضور ملتان جانے کے لئے لاہور اسٹیشن پر پہنچے۔اسٹیشن پر احمدی احباب کی ایک بڑی جماعت مشایعت کے لئے حاضر تھی۔شام کا کھانا حضرت میاں چہ الدین صاحب رئیس لاہور کی طرف سے اسٹیشن پر پہنچایا گیا۔میاں صاحب موصوف کے فرزند عزیز محترم حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی حضور کے ساتھ عازم ملتان ہوئے۔دوسری گاڑی میں حضرت میاں معراج الدین صاحب عمر اور حضرت مرزا عبد الغنی صاحب بھی حضور کی صحبت سے فیضیاب ہونے کے لئے ملتان پہنچ گئے۔صبح ۲۶ جولائی کو پانچ بجے کے قریب گاڑی ملتان اسٹیشن پر پہنچی۔بہت سے دوست استقبال کے لئے اسٹیشن پر موجود تھے۔حضور کے قیام کے لئے محلہ شاہ گردیز کی میں ایک مکان تجویز ہو چکا تھا جہاں حضور فروکش ہوئے۔عجیب اتفاق ہے کہ آپ کے آقا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام بھی ایک شہادت ہی کی ادائیگی کے لئے ملتان تشریف لائے تھے اور پھر معززین ملتان نے جس مدرسہ اسلامیہ حضرت شیخ صاحب دین صاحب ڈھینگوہ سکنہ گوجرانوالہ (بیعت ۱۸۹۲ء) فرماتے ہیں کہ آپ ان ایام میں ملتان میں تھے اور کہ حضور کی رہائش اور دیگر انتظامات میں پیش پیش تھے۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء