حیاتِ نور — Page 418
ساتِ نُـ ۴۱۵ وفات ہو جائے اور یہ لڑکی نکاح میں نہ آئے تو میری عقیدت میں تزلزل نہیں آ سکتا۔پھر یہی وجہ بیان کی والحمد للہ رب العالمین“۔آپ نے اس مضمون میں پھر اس وحدت کے پیدا ہونے پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا جو حضرت مسیح موعود کی وفات پر جماعت میں پیدا ہوئی اور قوم تفرقہ سے محفوظ رہی۔آپ نے فرمایا: عزیزان غور کرو۔آپ کے معا بعد ، فن سے پہلے جماعت میں بلا اختلاف شمال سے جنوب اور مغرب سے مشرق تک وحدت کی روح اللہ قادر و مقتدر نے کس طرح پھونک دی اے خدا قربان احسانت شوم حضرت میرزا کا ایک کیا چار بیٹے اور پوتا موجود، میرزا کا دامادمحمد وعلی نام کا مجموعه قابل قدر اور لائق موجود، میرزا کا خسر بجائے باپ موجود ہے اور تمام قوم نے ایک اجنبی کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔سیہ اس نہایت ہی قیمتی مضمون کے صرف جستہ جستہ اقتباسات ہیں ورنہ یہ تمام مضمون ہی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔آپ کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ، حضرت مفتی محمد صادق صاحب، جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے، حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب، محترم سید صادق حسین صاحب انا وی اور محترم جناب قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل نے بھی مخالفین کے اعتراضات کے جواب دیئے اور اس دینی جہاد میں نمایاں حصہ لیا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے جو جوابات لکھے۔حضرت خلیفہ اول نے ان کے متعلق جو اظہار پسندیدگی فرمایا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت صاحبزادہ صاحب موصوف فرماتے ہیں: جب حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد میں نے ” صادقوں کی روشنی کو کون دور کر سکتا ہے“ کے نام سے ایک کتاب لکھی تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے مولوی محمد علی صاحب کو کہا کہ مولوی صاحب امسیح موعود کی وفات پر مخالفین نے جو اعتراض کئے ہیں ان کے جواب میں تم نے بھی لکھا ہے اور میں نے بھی مگر میاں ہم دونوں سے بڑھ گیا ہے۔پھر یہی کتاب حضرت مولوی صاحب نے