حیاتِ نور — Page 19
ـور 19 آپ ٹھہرے رہیں تھوڑی دیر میں واپس آیا اور کہا کہ بھینسیں آج ہی آجائیں گی آپ اذان نہ دیں۔چنانچہ بھینسیں آ گئیں اور مولوی صاحب کے سپرد کر دی گئیں خاکسار عرض کرتا ہے کہ ممکن ہے اس عقیدہ کی بنیاد یوں پڑی ہو کہ کسی زمانہ میں کسی قریشی بزرگ نے کسی گاؤں کو راہ راست پر لانے کے لئے وہاں تبلیغ شروع کی ہو اور مسجد میں اذانیں دی ہوں۔مگر اس گاؤں کے لوگ نماز کی طرف متوجہ نہ ہوئے ہوں اور اس بزرگ کی دعوت کو ٹھکرا دیا ہو۔جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اس گاؤں کو ویران کر دیا ہو اور اس کے بعد لوگ قریشیوں کی اذان ہی سے ڈرنے لگے ہوں۔واللہ اعلم بالصواب۔بہر حال ہمارا مقصد اس واقعہ کے اندراج سے صرف اس قدر ہے تا بیہ دکھایا جاوے کہ اس زمانہ میں لوگ کس قسم کے تو ہمات میں مبتلا تھے۔حصول تعلیم کے لئے پر دیس کا عزم کرنے پر والد ماجد کی نصیحت لاہور میں تعلیم شروع کئے ہوئے ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ ایک طالب علم کی ترغیب سے آپ نے ریاست رامپور جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ کر لیا جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے۔آپ کے والد ماجد کو اپنی اولاد کی تعلیم کا اس قدر فکر تھا کہ انہوں نے تن من دھن کو اس راہ میں بیدریغ خرچ کیا بلکہ اس راستہ میں محبت پدری کو بھی قربان کرنے سے گریز نہ کیا۔چنانچہ جب آپ حصول تعلیم کے لئے پردیس جانے لگے تو آپ کے والد ماجد نے جو آپ کو ایک زریں نصیحت فرمائی۔اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ میرے باپ پر رحم فرمائے۔انہوں نے مجھے کو اس وقت جبکہ میں تحصیل علم کے لئے پردیس جانے لگا۔فرمایا اتنی دُور جا کر پڑھو کہ ہم میں سے کسی کے مرنے جینے سے ذرا بھی تعلق نہ رہے اور تم اس بات کی اپنی والدہ کو بر نہ کرنا۔آپ کے والد ماجد کا آخری فقرہ بتاتا ہے کہ وہ جانتے تھے کہ آپ کی والدہ ماجدہ کو آپ سے اس قدر محبت ہے کہ اگر آپ نے ان سے وطن سے باہر جانے کی اجازت مانگی تو وہ ہر گز اجازت نہیں دیں۔گی اس لئے یہ بھی نصیحت کر دی کہ جاؤ ضرور مگر اپنی والدہ سے اس امر کا ذکر نہ کرنا۔یقیناً جو لوگ اپنی اولاد کے حقیقی خیر خواہ ہوتے ہیں۔وہ جذبات کی قربانی کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے کیونکہ اس قربانی کے پس پردہ انہیں وہ کچھ نظر آتا ہے۔جس سے دوسرے لوگ قطعاً بے خبر ہوتے ہیں۔