حیاتِ نور

by Other Authors

Page 365 of 831

حیاتِ نور — Page 365

ـور ۳۶۳ صرف انجمن ہی ساری دنیا میں اسلام کو پھیلانے اور دینی مسائل میں رہنمائی کرنے اور مشکلات میں گھرے ہوؤں کے لئے دعائیں کرنے اور جماعت کی ترقی کے لئے مناسب تدابیر اختیار کرنے کے الئے کافی ہوگی۔اس بحث میں ہم بفضلہ تعالیٰ ثابت کر چکے ہیں کہ حضور کے بعد خلافت اور انجمن دونوں کی ضرورت ہے۔البتہ دونوں کا دائرہ عمل الگ الگ ہے۔انجمن کا کام چندے جمع کرنا اور ان کا مناسب رنگ میں خرچ کرنا ہے اور خلیفہ کا کام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقاصد کی تکمیل ہے۔جیسا کہ فرمایا: '' (انبیاء) جس راست بازی کو دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخمریزی انہی کے ہاتھ سے کر دیتا ہے۔لیکن اس کی پوری تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا۔بلکہ ایک ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف۔اپنے ساتھ رکھتا ہے۔مخالفوں کو جنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقعہ دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر نا تمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں۔۳۹ یہاں اس امر پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں کہ دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا یا بالفاظ دیگر قدرت ثانیہ" سے کیا مراد ہے کیونکہ پہلے اس پر مفصل بحث گزر چکی ہے اور یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ قدرت ثانیہ سے مراد خلافت ہے۔اب ہم ان کوششوں کا ذکر کرتے ہیں جو منکر بین خلافت نے خلافت کو مٹانے کے لئے کیں۔جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے جو بعد میں منکرین خلافت کے امیر مقرر ہوئے۔انہیں دراصل حضرت خلیفہ المسح الاول سے بعض ذاتی رنجشیں تھیں جو صدرانجمن کے اجلاسات کے دوران میں بعض چھوٹی چھوٹی باتوں کی بناء پر پیدا ہوگئی تھیں اس لئے وہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کو بطور خلیفہ المسیح کریں۔لیکن اس وقت چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کا صدمہ ابھی تازہ تازہ تھا اور ساری کی ساری جماعت کے دل آپ کی طرف جھکے ہوئے تھے اس لئے اس وقت تو جناب مولوی محمد علی صاحب اپنی بے سرو سامانی کو دیکھ کر دب گئے اور بیعت کر لی ورنہ دراصل وہ بیعت نہیں کرنا چاہتے تھے۔چنانچہ مولوی صاحب موصوف خود فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود کی وفات لاہور میں ہوئی۔آپ کی نعش مبارک جب