حیاتِ نور — Page 353
۳۵۱ ہاں ایک اور سلسلہ بیعت کا صوفیا میں مروج ہے جسے بیعت تو بہ کہتے ہیں۔اس بیعت میں داخل ہو کر بھی انسان اپنے مرشد کے احکام کا اسی طرح مطیع ہو جاتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور سیح موعود کی بیعت کا مفہوم ہے مگر اس بیعت کو خلافت راشدہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس کے ماتحت حضرت خلیفۃ اسیخ کی بیعت ہم لوگوں نے جو سلسلہ احمدیہ میں داخل ہیں کی۔اور اسی لئے حضرت خلیلة امسیح کے جملہ احکام خواہ وہ مسائل کے بارہ میں ہوں ان سب لوگوں کے لئے ماننا ضروری قرار دیا گیا یہ بیعت خدا تعالیٰ کے ساتھ روحانی تعلق کو بڑھانے کے لئے حضرت خلیفہ المسیح جیسے پاک وجودوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے اور آپ کے علم وفضل کے آگے سر نیچا کرنے کے لئے تھی اور اس کے لئے یہ ضروری تھا کہ مرید اپنے آپ کو مرشد کے سامنے ایک بے جان کی طرح ڈال دے اور اپنی جملہ خواہشات کو اس کے سپرد کر دے نہ یہ کہ مرشد کہتا ہے فلاں بات درست ہے تو مرید کہتا ہے کہ مرشد نے سمجھا ہی نہیں میں اس سے بہتر سمجھتا ہوں۔یہ بیعت کر لینے کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح کی گستاخی ہے اور بیعت کے مفہوم کے ساتھ ہنسی کا ہمارے نزدیک غیر مبائعین کی یہ بات واقعات کے بالکل بر خلاف ہے۔واقعات یہ ہیں کہ ۲۷ مئی ۱۹۰۸ء کو جبکہ ابھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو دفن نہیں کیا گیا تھا۔حضرت خلیفہ المسیح نے باغ میں سب احمدیوں کو جو اس وقت موجود تھے، مخاطب کر کے تقریر فرمائی کہ میں چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود کے دفن ہونے سے پیشتر تم سب ایک شخص کے ہاتھ پر جمع ہو جاؤ۔اور میں اس کام کے لئے فلاں فلاں شخص کو پیش کرتا ہوں۔لیکن سب حاضرین نے بالا تفاق اس امر پر زور دیا کہ آپ ہماری بیعت لیں۔اس پر آپ نے سب کی بیعت لی۔اس سے معلوم ہوا کہ آپ کی بیعت، بیعت تو بہ نہیں بلکہ بیعت خلافت تھی جو اس غرض کے لئے اختیار کی گئی تھی کہ تا جماعت کسی ایک شخص کے ہاتھ پر جمع ہو جائے۔لیکن اگر ہم غیر مبائعین کی اس بات کو تھوڑی دیر کے لئے تعلیم بھی کر لیں تو مندرجہ بالا حوالہ سے یہ صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح کی پوزیشن غیر مبائعین کے نزدیک حکم کی ہے۔پس اگر آپ کا خلافت کے متعلق وہی مسلک ہو جو مبائعین کا ہے تو اصولاً غیر مبائعین کو اس کے تسلیم کرنے میں چارہ نہیں ہونا چاہئے۔اس لئے غیر مبائعین پر حجت پوری کرنے کے لئے ضروری ہے