حیاتِ نور — Page 346
۳۴۴ - قائل ہیں۔قدرت ثانیہ کے متعلق ہم ثابت کر آئے ہیں کہ خلافت ہی کا دوسرا نام ہے۔اس کا ایک اہم مقصد حضور نے یہ بیان فرمایا ہے کہ حضور کے وصال پر جماعت میں جو زلزلہ آنے والا ہے قدرت ثانیہ کے ذریعہ اس کی تلافی ہوگی۔جیسا کہ حضور فرماتے ہیں: پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کے اس معجزے کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیق کے وقت میں ہوا۔پس جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اگر لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر جمع نہ ہو جاتے تو یقینا سب صحابہ پراگندہ ہو جاتے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد اگر سب احمدی حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر جمع نہ ہو جاتے تو یقینا یہ جماعت پراگندہ ہو جاتی۔پس قدرت ثانیہ کا سب سے پہلا اور اہم کام اس زلزلہ کو مٹانا تھا جوحضرت مسیح موعو علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد بر پا ہونا تھا۔اس کے علاوہ اور بھی بے شمار کام ہیں جو صرف خلافت کے ساتھ ہی وابستہ ہیں اور جن کا ذکر آئندہ صفحات میں موقعہ بموقعہ قارئین کرام ملاحظہ فرماتے رہیں گے۔دوسری چیز جس کا حضور نے ذکر فرمایا ہے، وہ ہے انجمن۔سو اس کے متعلق ہمیں دیکھنا چاہئے کہ حضرت اقدس نے انجمن کے قیام کی کیا اغراض لکھی ہیں۔حضور نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت بہشتی مقبرہ کی بنیاد رکھی اور اس میں دفن ہونے کے لئے علاوہ اور شرائط کے یہ شرط بھی مقرر فرمائی کہ تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں وہی مدفون ہوگا جو یہ وصیت کرے جو اس کی موت کے بعد دسواں حصہ اس کے تمام ترکہ کا حسب ہدایت اس سلسلہ کے اشاعت اسلام اور تبلیغ احکام قرآن میں خرچ ہوگا اور ہر ایک صادق کامل الایمان کو اختیار ہو گا کہ اپنی وصیت میں اس سے بھی زیادہ لکھ دئے“۔اس صورت میں چونکہ اموال کا کثرت کے ساتھ آنا ضروری تھا اور اس کا با قاعدہ حساب کتاب رکھنے کے لئے ایک بڑے دفتر کی ضرورت تھی۔اس لئے حضور نے فرمایا کہ یہ مالی آمدنی ایک بادیانت اور اہل علم انجمن کے سپرد رہے گی اور وہ باہمی مشورہ سے ترقی اسلام اور اشاعت اسلام، علم قرآن و کتب دینیہ اور اس سلسلہ کے واعظوں کے لئے حسب ہدایت مذکورہ بالا خرچ کریں گئے۔