حیاتِ نور

by Other Authors

Page 347 of 831

حیاتِ نور — Page 347

ـور ۳۴۵ مگر چونکہ انجمن کی تشکیل کے لئے کچھ وقت درکار تھا اور مخلصین کی طرف سے روپیہ آنے کی فوری توقع تھی۔اس لئے حضور نے تحریر فرمایا کہ بالفعل یه چنده اخویم مکرم مولوی نورالدین صاحب کے پاس آنا چاہئے۔مگر ساتھ ہی فرمایا: لیکن اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو یہ سلسلہ ہم سب کی موت کے بعد بھی جاری رہے گا اس صورت میں ایک انجمن چاہئے کہ ایسی آمدنی کا روپیہ جو وقتا فوقع جمع ہوتا رہے گا اعلائے کلمہ اسلام اور اشاعت توحید میں جس طرح مناسب سمجھیں خرچ کریں۔اس صورت میں" کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ انجمن کی ضرورت صرف روپیہ کی وصولی اور اس کے مناسب طور پر خرچ کرنے کے سلسلہ میں پیدا ہوئی۔خلافت کے کام سنبھالنے کے سلسلہ میں نہیں اور یہ ضرورت جس طرح حضرت اقدس کی زندگی میں تھی ویسے ہی حضور کے بعد بھی قائم رہنی تھی۔آگے فرمایا کہ ان اموال میں سے ان یقیموں اور مسکینوں اور نو مسلموں کا بھی حق ہوگا جو کافی طور پر وجوہ معاش نہیں رکھتے اور سلسلہ احمدیہ میں داخل ہیں اور جائز ہوگا کہ ان اموال کو بطور تجارت ترقی دی جائے۔پس حضرت اقدس کی تصریحات سے ظاہر ہے کہ انجمن کے سپر د جو کام حضرت اقدس نے فرمایا۔وہ صرف چندوں کی وصولی اور ان کا مذکورہ بالا مدات میں خرچ کرتا ہے اور وہ بھی حسب ہدایت سلسلہ۔اب سلسلہ کے ہر فرد کے حکم کی تعمیل کرنے سے تو صدر انجمن رہی۔لازما سلسلہ سے مراد ساری جماعت کا نمائندہ یعنی امام جماعت ہی ہو سکتا ہے۔پس انجمن کا فرض ہے کہ خلیفہ وقت کی زیر ہدایت کام کرے۔چنانچہ کوئی بھی الہی سلسلہ ایسا نہیں ہو سکتا جو امام کے بغیر قائم رہ سکے۔بیشمار کام ایسے ہوتے ہیں۔جنہیں کوئی انجمن کبھی سرانجام دے ہی نہیں سکتی۔مثلاً -1 -۲ -٣ قوم کے افراد کی توجہ کو ایک مرکز پر لانا ، افراد کی مشکلات میں مشیر ہوتا ، افراد اور قوم کے لئے دعائیں کرتا ، دینی مسائل میں ان کی صحیح رہنمائی کرنا ،