حیاتِ نور

by Other Authors

Page 13 of 831

حیاتِ نور — Page 13

۱۳ الانوار پڑھنے کی سفارش کی۔یہ دونوں کتابیں اردو زبان میں تھیں جو آپ کو بہت پسند تھیں اس لئے آپ نے ان کو خوب پڑھا۔اُردو زبان کے ذکر پر ایک مرتبہ آپ نے فرمایا کہ ”سب سے پہلے میں نے اردو زبان ایک دیو بند کے سپاہی سے سنی اور اُسے بہت پسند کیا۔پھر احسان الہی ہے کہ شاہ ولی اللہ کے خاندان کی کتابیں میں نے پڑھیں۔اس خاندان کے تلفیل مجھے بہت فائدہ ہوا“۔دوسری بار لاہور میں آمد پھر آپ لا ہور تشریف لے آئے اور مشہور حکیم الہ دین صاحب مرحوم مقیم گئی بازار سے طب پڑھنا شروع کی۔حکیم صاحب موصوف آپ کو موجز پڑھاتے تھے۔عربی زبان نہایت صحیح پڑھانا اور تلفظ میں بڑی احتیاط برتنا آپ ہمیشہ پیش نظر رکھتے تھے مگر چند روز بعد ہی آپ کو واپس بھیرہ جانا پڑا جس سے علم طب کا یہ مفید سلسلہ کچھ عرصہ کے لئے رک گیا۔نارمل سکول راولپنڈی میں داخلہ ۱۸۵۸ء ۱۸۵۸ء میں جب آپ کی عمر اٹھارہ برس کے قریب ہوئی تو کسی تقریب سے آپ کو راولپنڈی جانا پڑا جہاں نارمل سکول کی تعلیم آپ کے ذمہ لگائی گئی۔منشی محمد قاسم مرحوم کی تعلیم کی قدر اس وقت آپ کو معلوم ہوئی۔جبکہ نارمل سکول میں سہ نثر ظہوری اور ابوالفضل جیسی کتابوں کے پڑھنے میں آپ ہمیشہ اول رہنے لگے۔نارمل سکول کے ہیڈ ماسٹر مولوی سکندر علی مرحوم آپ سے اتنے خوش ہوئے کہ آپ کی حاضری کو بھی معاف کر دیا۔آپ فرماتے ہیں: اس غیر حاضری سے مجھے یہ فائدہ ہوا کہ حساب اور جغرافیہ پڑھنے کے لئے میں نے ایک آدمی کو نو کر رکھ لیا اور بجائے اس ذہاب و ایاب ( آنا جانا۔ناقل ) کے جو مدرسہ کے جانے میں ہوتا تھا۔میرا وقت اقلیدس اور حساب اور جغرافیہ کے لئے مفت بچ جاتا تھا کیونکہ نارمل سکول ہمارے مکان سے دو تین میل پر تھا۔تقسیم کسور مرکب کے لئے میں نے شیخ غلام نبی صاحب ہیڈ ماسٹرمیانی کوٹھیکہ دار بنایا۔اور وہی میں نے سب سے پہلے سیکھنی چاہی۔اس کا سیکھنا تھا کہ سارے مبادی الحساب ہر چہار حصص کے پڑھانے میں آخر کو ہم شیخ صاحب کے بھی اُستاد ہو گئے۔اقلیدس کے لئے منشی نہال چند ساکن ضلع شاہ پور کو منتخب کیا۔