حیاتِ نور

by Other Authors

Page 307 of 831

حیاتِ نور — Page 307

۳۰۵ حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس فعل سے پتہ چلتا ہے کہ آپ سید: مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اکتساب فیض کے کس قدر حریص تھے ؟ اور جب اس قدر عظیم الشان انسان کا یہ حال تھا کہ وہ اپنے مرشد و ہادی کے سامنے کمال تذلل و انکسار کے ساتھ اپنے آپ کو بالکل بے دست و پا کر کے پھینکے ہوئے تھا تو ہم لوگوں کا کہاں ٹھکانہ ارب اغــــــر و ارحم و انت خير الراحمین۔آمین یا رب العالمین طبیعت میں استغنا آپ کی طبیعت میں استغنا کا مادہ خدا تعالیٰ نے اس حد تک ودیعت کیا ہوا تھا کہ حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کا بیان ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح اول کے پاس ایک بڑھا دوائی لینے کیلئے آیا کرتا تھا اور وہ متواتر چھ سات ماہ تک آتا رہا۔میں اور میر محمد الحق صاحب ان دنوں حضرت خلیفہ اول سے پڑھا کرتے تھے۔ہمارے لئے یہ عجیب بات تھی کہ وہ ہمیشہ ہی دوائی لینے آجاتا ہے۔ایک دن ہم نے اس سے پوچھا کہ تم روز یہاں آتے ہو۔اگر تمہارا علاج ٹھیک نہیں ہو رہا تو کسی اور طبیب سے علاج کراؤ۔حضرت خلیفۃ اصیح اول ان دنوں عموم از کام کے مریضوں کے لئے نسخہ جات میں شربت بنفشہ لکھا کرتے تھے۔اس بڑھے نے کہا کہ چونکہ مجھے یہاں شربت پینے کومل جاتا ہے۔اس لئے میں روز دوائی لینے آجاتا ہوں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے اسے کئی دفعہ نماز پڑھنے کی نصیحت کی۔وہ کہا کرتا تھا۔آپ کی نماز بھی کوئی نماز ہے۔مسجد میں نماز پڑھنے گئے اور پھر سلام پھیر کر باہر آگئے۔جس چیز سے عشق ہو بھلا وہاں سے کوئی باہر بھی آیا کرتا ہے۔ہم نے تو جس دن سے اپنے پیر کی مریدی کی ہے ، ہم نماز پڑھ رہے ہیں اور اس دن سے نماز توڑی ہی نہیں تو پھر نئی نماز پڑھنے کا سوال ہی کس طرح پیدا ہو سکتا " ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ علاج کے معاملہ میں آپ احمدی و غیر احمدی، مسلم و کافر سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتے تھے۔وہ شخص احمدی نہ تھا اور با وجود بارہا نصیحت کرنے کے نماز بھی نہیں پڑھتا تھا۔پھر اپنے اقرار کے مطابق چھ سات ماہ سے برابر محض شربت پینے کے لئے آیا کرتا تھا۔بیماری وغیرہ