حیاتِ نور

by Other Authors

Page 298 of 831

حیاتِ نور — Page 298

ـور ۲۹۶ مولوی سعد اللہ لدھیانوی کی ہلاکت کے متعلق حضرت مولوی صاحب کی زبان پر حدیث رسول کا جاری ہونا آخر دسمبر ١٩٠٦ء ـارم مولوی سعد اللہ لدھیانوی حضرت اقدس کے اشد مخالفین میں سے تھا۔اس نے حضور کے خلاف ایک کتاب ”شہاب ثاقب بر مسیح کا ذب" کے نام سے لکھی اور اس میں حضرت اقدس کی ناکامی اور نا مرادی کے لئے دعائیں کیں اور پیشگوئی کے رنگ میں کہا کہ آپ نعوذ باللہ زیاں کار اور نامراد مریں گے۔۱۶ ستمبر ۱۸۹۴ء کو اس نے ایک اشتہار میں حضور کو ابتر کے لفظ سے بھی یاد کیا۔اس کے جواب میں حضرت اقدس کو اس کے خلاف الہام ہوا۔ان شانئک هو الابتر یعنی تیرا دشمن سعد اللہ جو تجھے ابتر کہتا ہے اس کا دعویٰ غلط ہے کیونکہ تو تو بہتر نہیں البتہ وہ ضرور ابتر رہے گا۔۱۰۲ اس الہام کے وقت سعد اللہ کا ایک بیٹا محمود نامی موجود تھا۔اس کے بعد بارہ سال گزر گئے مگر اس کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی۔سعد اللہ کا بیٹا بھی جوان ہو چکا تھا۔لوگوں نے سعد اللہ کو کہا کہ اس کی جلد شادی کرو تا کہ ہم بھی اسے صاحب اولا د دیکھ سکیں۔سعد اللہ نے کوشش بھی کی کہ لڑکے کی شادی ہو جائے۔مگر لڑ کا رضامند نہیں ہوتا تھا۔لیکن جب تمہیں سال کا ہو گیا تو سعد اللہ نے زبر دستی ایک شخص حاجی عبدالرحیم کی دختر سے اس کی نسبت کر دی۔لیکن شادی کی ابھی تیاریاں ہی ہو رہی تھیں کہ سعد اللہ جنوری ۱۹۰۷ء کو نمونیہ پلیگ سے فوت ہو گیا۔اور اس کے دل کے ارمان دل ہی میں رہے۔اور گروہ شادی بعد میں ہوگئی مگر اس شادی سے اس کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی۔اس کے ایک عرصہ بعد مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے کوشش کر کے اس کی دوسری شادی کروائی مگر ان کی امید اس شادی سے بھی بر نہ آئی اور وہ لڑکا بغیر اولاد کے ہی مورخہ ۱۲ جولائی ۱۹۲۶ء کو مر گیا۔اور حضرت اقدس کی پیشگوئی اپنی پوری شان کے ساتھ پوری ہوئی۔ابتر کے لفظ کی اشاعت پر ایک نشان حضرت اقدس نے جو سعد اللہ لدھیانوی کو ابتر لکھا تو خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈر نے بحیثیت ذکیل یہ عرض کی کہ حضور ابھی سعد اللہ خود بھی زندہ ہے اور اس کا لڑکا بھی زندہ ہے اور حضور نے لکھ دیا ہے کہ نہ اس سے اور نہ اس کے لڑکے سے اس کی نسل آگے چل سکتی ہے۔اس پر اگر وہ چاہے تو عدالت