حیاتِ نور — Page 294
۲۹۳ ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی سے آپ کی خط و کتابت ہے ڈاکٹر عبد الحکیم پٹیالوی حضرت اقدس کے ایک پرانے مرید تھے۔انہوں نے قرآن کریم کی ایک تغییر بھی لکھی تھی۔حضرت اقدس نے جب ان کی تغییر کہیں کہیں سے سنی تو فرمایا کہ اس میں روحانیت نہیں ہے حضرت مولوی صاحب نے وہ تفسیر دیکھ کر فرمایا کہ اس میں غلطیاں بہت کثرت سے ہیں۔ان دونوں بزرگوں کے اپنی تفسیر کے متعلق خیالات سن کر ڈاکٹر صاحب بگڑ کر واپس چلے گئے اور پھر قادیان میں آمد و رفت ترک کر دی۔اور اپنی قرآن دانی کے گھمنڈ میں آکر یہ عقیدہ اختیار کر لیا کہ انسان کی نجات کے لئے صرف اللہ تعالیٰ کی توحید اور قیامت پر ایمان لانا کافی ہے۔انبیاء پر ایمان لانا ضروری نہیں۔چنانچہ انہوں نے اپنے رسالہ الذکر الحکیم ، صفحہ پر لکھا: تمام قرآن مجید حمد الہی سے گونج رہا ہے اور تو حید اور تزکیہ نفس کو ہی مدار نجات قرار دیتا ہے نہ کہ محمد پر ایمان لانے کو یا مسیح" پر۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے اس عقیدہ کو غلط قراردیا اور ڈاکٹر صاحب کو نصیحت کی کہ وہ اس عقیدہ سے تو بہ کریں۔مگر انہوں نے اس کے برخلاف امام الزمان حکم و عدل سے بحث شروع کر دی اور بحث میں وہ رنگ اختیار کیا جو ایک گستاخ بخت دشمن اور کینہ ور انسان ہی اختیار کر سکتا ہے۔اس پر حضور نے انہیں ایک اعلان کے ذریعہ اپنی جماعت سے خارج کر دیا۔اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے حضرت مولوی صاحب سے خط و کتابت شروع کی اور اپنے مندرجہ بالا عقیدہ کی تائید میں بڑے زور سے دلائل دینے شروع کئے۔حضرت مولوی صاحب نے ان کے دلائل کا رد قرآن کریم کی متعدد آیات سے ایسا مدلل اور معقول دیا کہ ان سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔20 ۹۴ حضرت مولوی صاحب چونکہ بہت غیور انسان تھے۔اس لئے آپ نے ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب کے جماعت سے خارج کئے جانے کے بعد ان کی تمام کتابیں انہیں واپس کر دیں اور انہیں لکھا: چند اوراق در سائل دکتا میں آپ کی اگر میرے کتب خانہ میں تھیں تو میں نے باحتیاط آپ کو واپس کر دیں۔ایسا ہی ڈاکٹر عبد الحکیم صاحب نے جو قرآن کریم کی تفسیر لکھی تھی اسے بھی آپ نے اپنی لائبریری سے خارج کروا دیا۔