حیاتِ نور — Page 288
ـور ۲۸۸ جذبہ عشق و محبت کے تحت الٹا بچہ سے سامنے کہلوایا کہ میں نوکر 866 ہوں۔طلبائے دینیات حضرت مولوی صاحب کی زندگی میں ایک خاص بات جو ہمیشہ نمایاں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ جہاں کہیں رہے، آپ نے دینیات کی تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کی ایک جماعت ہمیشہ اپنے پاس رکھی اور اپنی آمد کا ایک حصہ اور اکثر وقت ان پر خرچ کرتے رہے۔پندرہ سولہ سال ریاست کشمیر میں گزارے۔اپنی زندگی جیسا کہ آپ کا طرہ امتیاز رہا ہے ہمیشہ سادگی کے ساتھ گزاری اور اپنی آمد کا کثیر حصہ ہمیشہ بیواؤں، قیموں، مسکینوں اور غرباء پر خرچ کرتے رہے۔مستحق طالب علموں کا بھی سارا بوجھ عموماً خود ہی برداشت کرتے رہے۔بلکہ بعض ایسے طلبہ کو بھی آپ کی طرف سے وظیفہ ملتا۔جو دوسرے سکولوں یا کالجوں میں تعلیم پاتے تھے۔محترم ڈاکٹر عطر دین صاحب فرماتے ہیں کہ میں جب وٹرنری کالج میں تعلیم پاتا تھا۔مجھے ۱۹۰۶ ء سے لے کر ۱۹۱۰ء تک پانچ روپے ماہوار برابر دیتے رہے۔حضرت مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے در پر آ کر دھونی رمانے کے بعد تو جس قدر محنت اور توجہ آپ نے سلسلہ کے لئے علماء تیار کرنے میں صرف کی وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت مرزا شریف احمد صاحب، حضرت میر محمد الحق صاحب، حضرت حافظ روشن علی صاحب ، حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری ، حضرت صوفی غلام محمد صاحب المعروف ماریشسی اور دیگر علماء جنہوں نے خلافت ثانیہ میں شاندار کارنامے سرانجام دیے ، سب آپ ہی کے شاگرد تھے۔ذیل میں جناب ایڈیٹر صاحب البدر کا ایک نوٹ درج کیا جاتا ہے جس سے اس سلسلہ میں آپ کے کام کا کسی قدر اندازہ ہو سکتا ہے۔محترم ایڈیٹر صاحب فرماتے ہیں: ایک درس کتب دینیات کا حضرت مولوی صاحب کے ہاں خاص ہے جس میں پانچ دس طلباء ہمیشہ حضرت مولوی صاحب موصوف سے تفسیر ، ترجمہ حدیث، فقه، صرف ونحو، معانی، منطق، فلسفہ، طب وغیرہ علوم کی تحصیل کرتے ہیں۔حضرت مولوی صاحب کے وقت کا اکثر حصہ ان طلباء کی تعلیم میں صرف ہوتا ہے۔ان طلباء کے ہر طرح گزارے کی صورت بھی اکثر حضرت مولوی