حیاتِ نور — Page 272
۲۷۲ کریم سے پارہ دوم کے ثلث کے قریب کا حصہ جس میں طلاق کا ذکر ہے۔آپ نے خاص پیرایہ میں ایک رکوع تلاوت فرمایا جو سننے والوں پر ایک خاص اور عجیب اثر پیدا کر رہا تھا۔پھر معارف قرآن اور تفسیر بیان کرنی شروع کی۔ہم وعظ تو سنا کرتے تھے مگر یہاں اور ہی سماں تھا۔ہمارا دل تو کھینچا گیا۔میں نے قریب ہی بیٹھے ہوئے ایک شخص سے پوچھا کہ یہی شخص مسیح موعود ہیں؟ اس نے کہا یہ تو مولوی نورالدین ہیں۔اس پر میں اور بھی خوش ہوا کہ جس دربار کے مولوی ایسے باکمال ہیں وہ خود کیسے بینظیر ہوں گے۔میں نے دریافت کیا۔آپ یعنی حضرت مسیح موعود کہاں ملیں گے؟ انہوں نے کہا۔نماز مغرب کے لئے مسجد مبارک میں تشریف لائیں گے تو زیارت ہوگی۔۲۸ پیدائش صاحبزادہ عبدالقیوم صاحب -۲۲ ستمبر ۱۹۰۳ء ۶۹ ۲۲ ستمبر ۱۹۰۳ء کو حضرت مولوی صاحب کے ہاں آپ کی زوجہ ثانی کے بطن سے ایک فرزند پیدا ہوا۔جس کا نام حضرت اقدس نے عبد القیوم رکھا۔19 کپورتھلہ میں تشریف آوری ۴/اکتوبر ۱۹۰۳ء کپورتھلہ میں خانصاحب محمد خاں صاحب احمدی افسر بھی خانہ سرکار کپورتھلہ بیمار تھے۔حضرت اقدس نے حضرت مولوی صاحب کو ارشاد فرمایا کہ آپ ان کے علاج کے لئے کپورتھلہ تشریف لے جائیں چنانچہ حضور کے اس حکم کی تعمیل میں آپ ۱/۴ کتو بر۱۹۰۳ء کو قادیان دارالامان سے روانہ ہوئے اور ۷ اکتوبر ۱۹۰۳ء کو واپس تشریف لائے۔کپورتھلہ کی جماعت نے اس موقعہ کو غنیمت جان کر آپ سے ایک پبلک تقریر کرنے کی بھی درخواست کی جسے آپ نے بخوشی منظور فرمالیا۔اس تقریر میں آپ نے علاوہ اور بیش قیمت نصائح کے ہستی باری تعالی ملائکتہ اللہ اور تقدیر کے مسائل پر بھی حکیمانہ رنگ میں روشنی ڈالی۔اسکے آپ کے نواسہ کی وفات ۱۵ اکتو بر ۱۹۰۳ء ۱۵ اکتو بر ۱۹۰۳ء کو مفتی فضل الرحمن صاحب کا لڑکا جو آپ کا نواسہ تھا۔قضائے الہی سے وفات پا گیا فانا للہ وانا الیہ راجعون۔اس موقعہ پرتسلی دینے کے لئے آپ نے نماز جنازہ کے بعد قبرستان ہی میں ایک نہایت ایمان افزا تقریر فرمائی۔