حیاتِ نور — Page 269
۲۶۹ کیا جانا ضروری ہے۔آپ نے فرمایا: میں ایک بار ریل میں سفر کر رہا تھا۔جس کمرہ میں میں بیٹھا ہوا تھا۔اسی کمرہ میں ایک اور بڑھا شخص بیٹھا ہوا تھا۔اور ایک اور شخص جو مجھے مولوی صاحب کہہ کر مخاطب کرنے لگا تو اس دوسرے شخص (یعنی بڑھے۔ناقل ) کو سخت برا معلوم ہوا۔اور اس نے کھڑکی سے باہر سر نکال لیا۔وہ شخص جو مجھ سے مخاطب تھا۔اس کے بعض سوالوں کا جواب جب میں نے دیا تو اس بڈھے نے بھی سراندر کر لیا اور بڑے غور سے میری باتوں کو سنے لگا اور وہ باتیں مؤثر معلوم ہوئیں۔پھر خود ہی اس نے بیان کیا کہ مجھے مولویوں کے نام سے بڑی نفرت ہے۔اس شخص نے جب آپ کو مولوی کر کے پکارا تو مجھے بہت برا معلوم ہوا۔لیکن جب آپ کی باتیں سنیں تو مجھے ان سے بڑا اثر ہوا۔میں نے پوچھا کہ مولویوں سے تمہیں ( کیوں ) نفرت ہے؟ اس نے کہا میں نے لدھیانہ میں ایک مولوی کا وعظ سنا۔اس نے دریائے نیل کے فضائل میں بیان کیا کہ وہ جبل القمر سے نکلتا ہے اور اس کے متعلق کہا کہ چاند کے پہاڑوں سے آتا ہے۔میں نے اس پر اعتراض کیا تو مجھے پٹوایا گیا۔اس وقت مجھے اسلام پر کچھ شکوک پیدا ہو گئے اور میں عیسائی ہو گیا۔بہت عرصہ تک میں عیسائی رہا۔پھر ایک دن پادری صاحب نے مجھے کہا کہ ایک نئی تحقیقات ہوئی ہے۔دریائے نیل کا منبع معلوم ہو گیا ہے اور اس نے بیان کیا کہ جبل القمر ایک پہاڑ ہے وہاں سے دریائے نیل نکلتا ہے۔میں اس کو سن کر رو پڑا۔اور وہ سارا واقعہ مجھے یاد آ گیا۔ایک عیسائی نے مجھے مسلمان بنادیا اور ایک مولوی نے مجھے عیسائی کیا۔اس وجہ سے میں ان لوگوں سے نفرت کرتا ہوں مگر آپ ان میں سے نہیں“۔یہ واقعہ سنانے کے بعد آپ نے فرمایا: میں سچ کہتا ہوں کہ اس کی یہ کہانی سن کر میرے دل پر سخت چوٹ لگی کہ اللہ ! مسلمانوں کی یہ حالت ہے؟ غرض اس وقت مسلمانوں کی حالت تو یہانتک پہنچی ہے اور اس پر بھی ان کو کسی مزکی کی ضرورت نہیں۔11