حیاتِ نور

by Other Authors

Page 251 of 831

حیاتِ نور — Page 251

۲۵۱ کا اتفاق ہوا۔اور اب تو ایک سیکنڈ اور طرفتہ العین کیلئے بھی میری روح جُدائی گوارا نہیں کرتی۔اور ایک خوبصورت امید میرے سینہ میں ہے کہ انشاء اللہ میرا جینا میرا مرنا ان ہی پاؤں میں ہو گا۔اور اب میں یہاں سے چند روز کے لئے کہیں جاتا ہوں تو دل کی آرزو کے خلاف مجبوراً پکڑا جاتا ہوں۔یہ تقریر کافی لمبی ہے اور بڑی ہی ایمان افزا، مگر جتنا حصہ میرے مقصد کی وضاحت کے لئے ضروری تھا، اتنا میں نے لے لیا ہے۔میرا مدعا صرف یہ بتانا تھا کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب جیسا جلیل القدر انسان بھی حضرت حافظ مولانا نورالدین صاحب کی توجہ اور دعاؤں کی وجہ سے ہی سلسلہ حقہ کے ساتھ منسلک ہوا۔گو یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ نور اور یقین جو حضرت امام الزمان کی صحبت سے پیدا ہوا وہ حضرت مولوی صاحب کی صحبت سے نہیں پیدا ہو سکا۔حضرت مولوی صاحب کے اثر کا پتہ اس امر سے بھی لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی بیعت حضرت مولوی صاحب کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر لی تھی۔جس میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب ، حضرت مولوی نورالدین صاحب کے خاص طور پر زیر اثر ہیں اور انہی کی وساطت سے سلسلہ میں داخل ہو رہے ہیں۔قرآن کریم پڑھنے کا طریق حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ قرآن میری غذا اور میری رُوح کی فرحت کا ذریعہ ہے اور باوجود اس کے کہ میں قرآن کریم کو دن میں کئی بار پڑھتا ہوں مگر میری رُوح کبھی سیر نہیں ہوتی۔یہ شفا ہے، رحمت ہے، نور ہے، ہدایت ہے۔چنانچہ ایک مرتبہ جب آپ سے کسی نے سوال کیا کہ قرآن کریم کیونکر آ سکتا ہے؟ تو آپ نے جواب دیا کہ قرآن کریم سے بڑھ کر سہل اور آسمان کتاب دنیا میں نہیں مگر اس کے لئے جو پڑھنے والا ہو۔سب سے پہلے اور ضروری شرط قرآن کریم کے پڑھنے کے واسطے تقویٰ ہے۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ متقی کو قرآن پڑھا دے گا۔طالب علم کو معاش کی طرف سے فراغت اور فرصت چاہئے۔تقویٰ اختیار کرنے کی وجہ سے اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچتا ہے کہ کسی کو معلوم بھی نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالٰی خود متکفل ہو جاتا ہے۔پھر دوسری شرط قرآن کریم کے پڑھنے کے واسطے مجاہدہ ہے۔یہ مجاہدہ خدا میں