حیاتِ نور

by Other Authors

Page 250 of 831

حیاتِ نور — Page 250

۲۵۰ مان لیا۔مگر وہ بصیرت اور معرفت نصیب نہ ہوئی۔مارچ ۸۹ ء کا ذکر ہے کہ حضرت امام نے بیعت کا اشتہار شائع کیا اور مولوی صاحب لودھیا نہ تشریف لے گئے اور مجھے بھی ساتھ لے گئے۔میں صاف کہوں گا کہ میں اپنی خوشی سے نہیں گیا بلکہ زور سے ساتھ لے گئے۔ان دنوں میں بیعت کرنے کا اول فخر مولوی صاحب کو ہوا مگر میں اس وقت بھی اڑ گیا۔اور روح میں کشائش اور سینہ میں انشراح نہ دیکھ کر کا۔مولوی صاحب کے اصرار اور الحاح سے بیعت کر لی یہ سچا اظہار ہے۔شاید کسی کو فائدہ پہنچے۔اس کے بعد میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرے دل و روح میں ایک تبدیلی پیدا ہونی شروع ہوئی۔میں نے اس دوا کو جس کا میں ایک عرصہ سے جو یاں تھا۔قریب یقین کیا۔میرے دل میں ایک سکینت اترتی ہوئی محسوس ہوتی تھی اور دل میں ایک طاقت اور لذت آتی معلوم ہونے لگی یہائک کہ ۱۸۹۵ء میں مسیح موعود کے دعوے کا اعلان ہوا۔اور اس سال کے آخر میں حضور نے مجھے لکھا کہ میں ازالہ اوہام تصنیف کر رہا ہوں اور بیمار ہوں۔کا پیاں پڑھنے ، پروف دیکھنے ، خطوط لکھنے کی تکلیف کا متحمل نہیں ہو سکتا۔جس طرح بن پڑے آجائیں۔ادھر سے مولوی نورالدین صاحب کا خط آیا کہ حضرت کو تکلیف بہت ہے لودھیا نہ جلدی جاؤ۔اس وقت میں مدرسہ میں مدرس تھا۔وہاں سے رخصت لے کر لودھیا نہ پہنچا اور اقرار کرتا ہوں کہ ہنوز دنیا اور ہوائے دُنیا سے میرا دل سیر اور نوکری سے قطعا بیزار نہ ہوا تھا اور جو دس پندرہ روپے ملتے تھے انہیں غنیمت سمجھتا تھا اور عزم تھا کہ اختتام پر پھر اس سلسلہ کو اختیار کروں گا۔مگر جب میں تین ماہ تک حضرت اقدس کی محبت میں رہا تو یہ پہلا موقعہ اتنی دراز صحبت کا ملا۔میں نہیں جانتا تھا کہ وہ خیال اور وہ آرزو کدھر گئی۔اس قسم کے خیالات سے میری روح کو صاف کر دیا گیا اور میرا سینہ دھویا گیا اور اندر سے آواز آئی کہ تو دنیا کے کام کا نہیں۔بس پھر کیا تھا۔تین ماہ کی رخصت پورے ہوتے ہوتے یہ سب خیالات جاتے رہے اور پھر نہ واپس نہ استعفاء۔خدا تعالیٰ نے دنیا کی دلدل سے مجھے بالکل نکال دیا۔اس وقت سے لے کر ۱۸۹۳ء تک مجھ کو چھ چھ مہینے اور برس تک بھی حضرت اقدس کی صحبت میں رہنے