حیاتِ نور — Page 247
ارم ۲۴۷ تینوں عزیز قابل قدر اور تعظیم ہیں۔اور امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے لئے ایک بڑا تحفہ لا ئیں گے۔آسمان ان کے سفر سے خوشی کرتا ہے کہ محض خدا کے لئے قوموں کو شرک سے چھڑانے کے لئے یہ تین عزیز ایک نجی کی صورت پر اُٹھے ہیں۔اس لئے لازم ہے کہ ان کے وداع کے لئے ایک مختصر سا جلسہ قادیان میں ہو اور ان کی خیر و عافیت کے لئے دعائیں کی جائیں۔لہذا میں نے اس جلسہ کی تاریخ ۱۲ نومبر ۱۸۹۹ء مقرر کر کے قرین مصلحت سمجھا ہے کہ ان تمام خالص دوستوں کو اطلاع دوں جن کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی عید نہیں کہ جس کام کے لئے وہ اس سردی کے ایام میں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر اور اپنے عیال اور دوستوں سے علیحدہ ہو کر جاتے ہیں۔اس مراد کو حاصل کر کے واپس آدیں اور فتح کے نقارے ان کے ساتھ ہوں۔میں دعا کرتا ہوں کہ اے قادر خدا!! جس نے اس کام کے لئے مجھے بھیجا ہے ان عزیزوں کو فضل اور عافیت سے منزل مقصود تک پہنچا اور پھر بخیر وخوبی فائز المرام واپس آئیں۔آمین ثم آمین۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ میرے وہ عزیز دوست جو دین کے لئے اپنے تئیں وقف کر چکے ہیں حتی الوسع فرصت نکال کر اس جلسہ وداع پر حاضر ہوں گے اور اپنے ان عزیزوں کے لئے رو رو کر دعا کریں گے۔والسلام، ارا کتوبر 99 بعض دوسری تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب کے بعد حضرت نواب محمد علی خانصاحب نے بھی دو افراد کے اخراجات بھجوادیے تھے۔۵۲ رم حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی دینی تربیت میں آپ کی کوشش ہماری جماعت کے مشہور عالم جنہیں بعد میں اللہ تعالیٰ کی وحی میں مسلمانوں کا لیڈر کا خطاب ملا۔آپ ہی کے ذریعہ سے سلسلہ حقہ سے روشناس ہوئے تھے۔انہوں نے جو روحانی فیوض آپ سے حاصل کئے۔اس کا ذکر انہوں نے خود ہی اپنی ایک تقریر میں کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں: میں نے بہت غور کی ہے اور میری عمر کا بہت بڑا حصہ اسی غور و فکر میں گزرا ہے ور اللہ علیم اس بات کا گواہ ہے کہ مجھے ہوش کے زمانہ سے یہی شوق دامنگیر رہا