حیاتِ نور — Page 230
۲۳۰ جنازہ تھے۔گور پر پہنچ کر حضرت مولوی صاحب موصوف نے حاضرین کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ ہے انسان کا خاتمہ جس کے لئے وہ حسد، بغض، کینہ، جھوٹ اور فریب کو " اختیار کرتا ہے۔ع یہ بچی حضرت مولوی صاحب کی بڑی صاحبزادی اور مولوی عبدالواحد غزنوی کی اہلیہ تھیں اس بچی سے متعلق ایک دفعہ آپ نے مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی کو لکھا تھا کہ اگر آپ سوچو تو عبد الواحد کو اپنی لڑکی امامہ رحمہا اللہ کا نکاح تمہارے والد ماجد کی محبت کا ہی ثمرہ تھا۔اے اس سے ظاہر ہے کہ یہ رشتہ آپ نے حضرت مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کی محبت کی وجہ سے اُن کے لڑکے کو دیا تھا۔کیونکہ وہ ایک بڑے بزرگ اور خاصان خدا میں سے تھے۔دوسری بات جو اس موقعہ پر قابل ذکر ہے یہ ہے کہ ان ایام میں چونکہ باوجود کوشش کے کوئی موزوں رشتہ نہ مل سکا۔اور بعد ازاں آپ کے ہاں اولاد نرینہ بھی ہونے لگی اس لئے پھر اور شادی کرنے کا خیال رہ گیا۔ہر کام میں اللہ تعلی کی کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔یہاں بھی یہ حکمت نظر آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں چونکہ آپ کے ہاں اولاد نرینہ کا ہونا موجودہ بیوی ہی سے مقدر تھا۔اس لئے با وجود پوری کوشش کے اس موقعہ پر کوئی موزوں رشتہ نہ مل سکا۔حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے ساتھ آپ کے تعلقات حضرت نواب محمد علی خاں صاحب میں چونکہ عنفوان شباب ہی سے صالحیت کے آثار پائے جاتے تھے۔اس لئے ان کو بھی آپ نہایت ہی قدر کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے اور خط و کتابت کے ذریعے ان کے ایمان اور عرفان کو بڑھانے کی کوشش میں لگے رہتے تھے۔چنانچہ ذیل میں آپ کا ایک مکتوب درج کیا جاتا ہے جو آپ نے مارچ ۱۸۹۳ء کو حضرت نواب صاحب کو لکھا۔آپ فرماتے ہیں: بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد و فصلی علی رسولہ الکریم وآله واصحابه مع التسليم خاکسار نورالدین اللهم اجعلہ کاسمہ۔آمین بگرامی خدمت حضرت نواب صاحب مکرم السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاته