حیاتِ نور — Page 221
۲۲۱ خیر یہ تو سب باتیں تھیں مگر آپ کی اس عنایت کا جو آپ نے مجھ گنہگار پر کی اور اپنی متبرک شفقت دلی سے مجھے عزت بخشی۔میں اس کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں امید ہے کہ آپ اس گنہگار کے دلی ناچیز شکر کو قبول و منظور فرما دیں گے۔والسلام مع الاکرام۔( سید احمد علی گڑھ ۱۸ مارچ ۱۸۹۷ ۳۴۶ سرسید مرحوم کا آپ سے تو رات کی تفسیر لکھوانے کا ارادہ یادر ہے کہ سرسید مرحوم نے آپ سے ایک مرتبہ تو رات کی تفسیر لکھوانے کا بھی ارادہ کیا تھا مگر بعض وجوہ کی بناء پر یہ کام نہ ہو سکا۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ مولوی عنایت الرسول صاحب چمہ یا کوئی ایک مشہور عالم اور عیسائیوں سے مناظرات کرنے کا خاص جوش رکھنے والے انسان تھے اور عبرانی اور یونانی زبانیں بھی جانتے تھے۔انہوں نے ایک دفعہ سرسید مرحوم سے کہا کہ اسلامی نقطہ نظر سے تو رات کی تفسیر آپ مجھ سے لکھوا لیں ورنہ میرے بعد کسی اور سے یہ کام ہونا مشکل ہوگا۔سرسید مرحوم نے یہ تجویز پسند کی اور مولوی عنایت الرسول صاحب کی مدد کے لئے انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول کی خدمت میں درخواست کی۔یہ حضور کے قادیان آنے سے بہت پہلے کی بات ہے۔حضور نے خدمت دین کے جذبہ کے ماتحت اپنے تمام مشاغل کو چھوڑ کر اس کام میں شمولیت اور امداد کا وعدہ کر لیا مگر افسوس ہے کہ خود مولوی عنایت الرسول صاحب ہی اس کام سے دستکش ہو گئے اور تورات کی تفسیر لکھنے کا ارادہ معرض وجود میں نہ آیا۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سرسید مرحوم کی نگاہ میں حضور کا کیا مقام تھا کہ ان کی نگاہ انتخاب سارے ہندوستان میں تو رات کی تفسیر میں مدد دینے کے لئے جس شخص پر پڑی وہ صرف حضور ہی کا وجود تھا۔۳۵ حضرت مسیح موعود کی آواز پر نماز توڑ دی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا بیان ہے کہ: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایک دفعہ آپ نے حضرت خلیفہ اول کو آواز دی۔آواز سنتے ہی آپ نے نماز توڑ دی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔نبی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس لئے اجازت دی ہے کہ نبی ایسے احکام بتا تا ہے جو دین کے لئے اشد ضروری ہوتے ہیں۔۳۶ ور