حیاتِ نور — Page 190
19۔غرض آپ کی زندگی فدائیت کے واقعات سے معمور ہے۔یہ چند واقعات تو بطور نمونہ درج کئے گئے ہیں۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی حیات کا لحد لحہ سلسلہ حقہ کے لئے وقف تھا۔آپ عموماً سارا دن ایک نمدے کے اوپر بیٹھے رہتے تھے۔آگے ایک ڈسک ہوتا تھا۔اس پر بیٹھ کر طب کرتے تھے۔اسی پر بیٹھے بیٹھے قرآن وحدیث اور طب پڑھاتے تھے اور بعض اوقات کھانا بھی وہیں منگوا لیتے تھے۔محترم شیخ عبداللطیف صاحب بٹالوی فرمایا کرتے ہیں کہ میں جب قادیان جا تا تھا تو اکثر سارا سارا دن آپ ہی کے پاس بیٹھا رہتا تھا۔عصر کی نماز کے بعد آپ مسجد اقصیٰ میں قرآن کریم کا درس دیا۔کرتے تھے ایک دن درس سے واپس آتے ہوئے ہندو ڈ پٹی صاحب کے مکان (جہاں اب صدر انجمن احمد یہ قادیان کے دفاتر ہیں - مؤلف) کے پاس مجھے بازو سے پکڑ کر فرمایا کہ عبد اللطیف ! تم وہ وقت دیکھو گے کہ جب تم خلیفہ کو دیکھنے کے لئے ترسا کرو گے۔شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ اس وقت تو میں آپ کی بات کا مطلب نہ سمجھا لیکن اب جبکہ حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ بصرہ العزیز کو دیکھنے کے لئے ترسنے لگے تو بات سمجھ میں آئی۔سرسید مرحوم کے ساتھ تعلقات آپ ہر اس انسان کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار تھے جو بنی نوع انسان کی کسی نہ کسی رنگ میں خدمت کرنے کا جذبہ اپنے اندر رکھتا تھا۔سرسید مرحوم نے مسلمانوں کی تعلیمی پستی کو دور کرنے کے لئے ایک اسلامیہ کالج بنانے کا عزم کیا۔علماء وقت انگریزی تعلیم کے شدید مخالف تھے۔ان کے غلیظ سے غلیظ فتووں اور مخالفتوں کے باوجود سرسید کالج کے قائم کرنے میں کامیاب ہو کر رہے۔حضرت مولوی صاحب سرسید مرحوم کی ان خدمات اور قربانیوں کے مداح تھے۔اور ۱۸۸۷ء سے لے کر ۱۸۹۴ء تک برابر چندہ بھیجتے رہے۔اور محمدن ایجو کیشنل کانفرنس کے جلسوں میں بھی حضرت اقدس کے بیعت کے زمانہ تک شریک ہوتے رہے۔بیعت کے بعد آپ کی دلچسپیوں کا مرکز بدل چکا تھا۔تا ہم سرسید کی تعلیمی مساعی اور قومی خدمات کے آپ قدر دان تھے۔انجمن حمایت اسلام کے ۱۸۹۳ء کے جلسہ میں آپ کی تقریر قادیان کے ۱۸۹۲ء کے جلسہ سالانہ میں چونکہ بعض لوگوں نے اپنے آرام و آسائش کو دوسروں پر مقدم کیا تھا۔حضرت اقدس کو اس امر سے سخت تکلیف ہوئی۔اور حضور نے ۱۸۹۳ء کا جلسہ ملتوی فرما دیا تھا۔حضرت مولوی صاحب نے انجمن حمایت اسلام لاہور کے سالانہ جلسہ ۱۸۹۳ء میں تقریر