حیاتِ نور

by Other Authors

Page 189 of 831

حیاتِ نور — Page 189

۱۸۹ اللہ! اللہ ! اطاعت آقا میں کیسا کمال ہے کہ وہ شخص جو کسی بڑے سے بڑے آدمی کے سامنے زمین پر بیٹھنے کے لئے طالب علمی کے زمانہ میں بھی تیار نہیں ہوتا تھا، دینی و دنیوی ترقیات کی اعلیٰ منزلیں طے کرنے کے بعد بھی حضرت مسیح پاک کے سامنے زمین پر بیٹھنے ہی میں سعادت عظمی سمجھتا ہے۔-1 حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ایک ہندو بٹالہ سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا نہ اور عرض کی کہ میری اہلیہ سخت بیمار ہے۔از راہ نوازش بٹالہ چل کر اسے دیکھ لیں۔آپ نے فرمایا۔حضرت مرزا صاحب سے اجازت حاصل کرو۔اس نے حضرت کی خدمت میں درخواست۔کی۔حضور نے اجازت دی۔بعد نماز عصر جب حضرت مولوی صاحب حضرت اقدس کی خدمت میں ملاقات کے لئے حاضر ہوئے تو حضور نے فرمایا کہ امید ہے آپ آج ہی واپس آجائیں گئے۔عرض کی ، بہت اچھا۔بٹالہ پہنچے۔مریضہ کو دیکھا۔واپسی کا ارادہ کیا مگر بارش اس قدر ہوئی کہ جل تھل ایک ہو گئے۔ان لوگوں نے عرض کی کہ حضرت! راستے میں چوروں اور ڈاکوؤں کا بھی خطرہ ہے۔پھر بارش اس قدر زور سے ہوئی ہے کہ واپس پہنچنا مشکل ہے کئی مقامات پر پیدل پانی میں سے گزرنا پڑے گا۔مگر آپ نے فرمایا خواہ کچھ ہو۔سواری کا انتظام بھی ہو یا نہ ہو۔میں پیدل چل کر بھی قادیان ضرور پہنچوں گا کیونکہ میرے آقا کا ارشاد یہی ہے کہ آج ہی مجھے واپس قادیان پہنچنا ہے۔خیر یکہ کا انتظام ہو گیا اور آپ چل پڑے۔مگر بارش کی وجہ سے راستہ میں کئی مقامات پر اس قدر پانی جمع ہو چکا تھا کہ آپ کو پیدل وہ پانی عبور کرنا پڑا۔کانٹوں سے آپ کے پاؤں زخمی ہو گئے مگر قادیان پہنچ گئے۔اور فجر کی نماز کے وقت مسجد مبارک میں حاضر ہو گئے۔حضرت اقدس نے لوگوں سے دریافت فرمایا کہ کیا مولوی صاحب رات بٹالہ سے واپس تشریف لے آئے تھے۔قبل اس کے کوئی اور جواب دیتا آپ فوراً آگے بڑھے اور عرض کی حضور! میں واپس آ گیا تھا۔یہ بالکل نہیں کہا کہ حضور! رات شدت کی بارش تھی ، اکثر جگہ پیدل چلنے کی وجہ سے میرے پاؤں زخمی ہو چکے ہیں اور میں سخت تکلیف اُٹھا کر واپس پہنچا ہوں۔وغیرہ وغیرہ بلکہ اپنی تکالیف کا ذکر تک نہیں کیا۔“