حیاتِ نور

by Other Authors

Page 180 of 831

حیاتِ نور — Page 180

۱۸۰ ـور حالات سن کر نہایت افسوس ہوا۔اپنے محسن کا دل سخت الفاظ سے شکستہ کرنا اس سے زیادہ کیا نا اہلی ہے۔خدا تعالیٰ ان کو تا دم کرے اور ہدایت بخشے۔خاکسار غلام احمد عفی عنہ از قادیان ۲۶ اگست ۱۸۹۲ء اس مکتوب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب ۲۶ /اگست ۱۸۹۲ء تک ریاست جموں سے علیحدہ ہو چکے تھے۔ایک اور بات جو حضرت شیخ یعقوب علی صاحب کی تحریر سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مولوی صاحب کے تعلقات مہاراجہ پرتاپ سنگھ والئے ریاست کے بھائی راجہ امر سنگھ صاحب کے ساتھ بہت اچھے تھے اور مہاراجہ کو یہ بات ناگوار تھی۔ممکن ہے کہ حضرت مولوی صاحب کا مذہبی اثر بھی راجہ امر سنگھ پر ہو۔اس لحاظ سے جو بات او پر درج کی گئی ہے اس میں اور اس میں کوئی فرق نہیں۔حضرت مولوی صاحب نے یہ واقعہ مجمل طور پر لکھوایا ہے اور حضرت شیخ صاحب نے قدرے تفصیل بیان کر دی ہے لیکن نفس واقعہ میں کوئی فرق نہیں۔بہر حال ملازمت سے سبکدوشی کا باعث خواہ کچھ ہو۔دراصل اب وقت آ گیا تھا کہ آپ جیسا عظیم المرتبت انسان مستقل طور پر مسیح الزمان کے قدموں میں رہ کر سلسلہ عالیہ کی خدمت میں لگ جائے ور نہ جیسا کہ بعد کے حالات بتاتے ہیں۔مہاراجہ صاحب آپ کے علیحدہ ہو جانے کے بعد سخت متاسف تھے۔چنانچہ بعد ازاں جب آپ کو کسی تقریب پر کشمیر میں جانا پڑا تو اس وقت کے مہا راجہ نے کہا کہ آپ پر بھی بہت بیجا ظلم ہوا ہے آپ معاف کر دیں۔جس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ: یہ تو خدا تعالیٰ کا گناہ ہے اور خدا تعالیٰ کا گناہ خدا تعالیٰ ہی معاف کر سکتا ہے۔بندے کی کیا طاقت ہے“۔ہے تو کل کا اعلیٰ مقام جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔آپ ریاست میں ایک معقول تنخواہ پانے کے علاوہ سال میں متعدد مرتبہ بیش بہا انعام و اکرام سے بھی نوازے جاتے تھے مگر وہ ساری رقم آپ طلباء، بیوگان ، بتائی اور دیگر ضرورتمندوں کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کر دیتے تھے اور بالکل متوکلانہ زندگی بسر کرتے تھے۔جموں میں حاکم نام ایک ہندو پنساری تھا۔وہ ہمیشہ آپ کو نصیحتنا کہا کرتا تھا کہ آپ ہر ماہ کم از کم ایک صدر و پیہ پس انداز کر لیا کریں۔یہاں بعض اوقات اچانک مشکلات پیش آجایا کرتی ہیں۔مگر آپ اُسے ہمیشہ یہی فرمایا کرتے تھے کہ ایسے خیالات لانا اللہ تعالیٰ پر بدظنی ہے۔ہم پر انشاء اللہ بھی