حیاتِ نور — Page 163
۱۶۳ اس کے بعد حضرت اقدس حضرت مولوی صاحب کے متعلق فرماتے ہیں: حضرت مولوی صاحب جو انکسار اور ادب و ایثار مال وعزت اور جانفشانی میں فانی ہیں۔خود نہیں بولتے بلکہ ان کی رُوح بول رہی ہے۔در حقیقت ہم اسی وقت بچے بندے ٹھہر سکتے ہیں کہ جو خداوند منعم نے ہمیں دیا ہم اس کو واپس دیں یا واپس دینے کے لئے تیار ہو جائیں۔ہماری جان اس کی امانت ہے اور وہ فرماتا ہے کہ اَنْ تُؤَدُّو الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا مرکہ نہ پائے عزیزش رود - بارگراں ست کشیدن بدوش ۲ ناظرین اندازہ لگائیں کہ حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب جیسا جہاندیدہ اور آزمودہ کار عالم جو اپنے تقویٰ و طہارت، نیکی علم و فضل اور حکمت کی بنا پر سارے ہندوستان میں مشہور تھا۔جب اسے پتہ لگتا ہے کہ حضرت اقدس واقعی خدا تعالیٰ کے مرسل ہیں تو وہ کس طرح مردہ بدست زندہ کی طرح اپنے آپ کو حضور کے قدموں میں ڈال دیتا ہے اور حضرت اقدس پر بھی قربان جائیے کہ آپ اپنے اس مخلص اور جانثار مُرید کی کس قدر قدردانی فرماتے ہیں۔اللھم صل علی محمد وال محمد - ایک انگریز کا قبول اسلام اور حضرت مولوی صاحب کو اطلاع اوائل ۱۸۹۲ء میں کر تول احاطہ مدراس کے ایک انگریز مسٹر ویٹ جان خلف الرشید مسٹر جان ویٹ نے حضرت اقدس کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔حضور کا یہ طریق تھا کہ تمام اہم معاملات سے حضرت مولوی صاحب کو بھی مطلع فرمایا کرتے تھے چنانچہ اس موقعہ پر حضور نے آپ کو اطلاع دی۔پھر جنوری ۱۸۹۲ء میں جب حضور لاہور تشریف لے گئے تو حضرت مولوی صاحب کو بھی بذریعہ چٹھی یاد فرمایا۔چنانچہ آپ فورا پہنچ گئے۔لاہور میں حضرت اقدس نے منشی میراں بخش صاحب کی کوٹھی کے احاطہ میں ہزاروں آدمیوں کے مجمع میں ایک عظیم الشان تقریر فرمائی۔جس کے بعد حضور نے آپ کو فرمایا کہ آپ بھی کچھ تقریر کریں چنانچہ آپ نے فرمایا: آپ نے مرزا صاحب کا دعوئی اور اس کے دلائل آپ کی زبان سے سنے اور اللہ تعالٰی کے اُن وعدوں اور بشارتوں کو بھی سُنا جو ان مخالف حالات میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی ہیں۔تمہارے اس شہر والے لوگ مجھے اور میرے خاندان کو جانتے ہیں۔علماء بھی مجھ سے ناواقف نہیں۔اللہ تعالیٰ نے مجھے قرآن کا فہم دیا