حیاتِ نور

by Other Authors

Page 153 of 831

حیاتِ نور — Page 153

۱۵۳ گا۔اور دین کو دنیا کے آراموں اور نفس کے لوازمات پر مقدم رکھوں گا اور ۱۲ جنوری کی دس شرطوں پر حتی الوسع کار بند رہوں گا۔اور اب بھی اپنے گزشتہ گناہوں کی اللہ تعالٰی سے معافی چاہتا ہوں۔اَسْتَغْفِرُ الله رَبِّي - اَسْتَغْفِرُ الله۔بَى - اَسْتَغْفِرُ الله رَبَى مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَ أَتُوبُ إِلَيْهِ - اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ وَ اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَ اعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْلِي ذُنُوبِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ “۔خود حضرت مولوی صاحب اپنی اس بیعت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: نبی کو جو فراست دی جاتی ہے وہ دوسروں کو نہیں دی جاتی۔حضور نے جب میری بیعت لی تو میرا ہاتھ نیچے سے پکڑا۔حالانکہ دوسروں کے ہاتھ اس طرح پکڑے جس طرح مصافحہ کیا جاتا ہے۔پھر مجھ سے دیر تک بیعت لیتے رہے اور تمام شرائط بیعت پڑھوا کر اقرار لیا۔اس خصوصیت کا علم مجھے اس وقت نہیں ہوا۔مگر اب پہ بات کھل گئی۔۔۔حضرت خلیفہ اسیح الاول کی تحریک پر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی نے بھی ابتدائی ایام ہی میں بیعت کر لی تھی۔اُن کی بیعت کا واقعہ بھی عجیب ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کے ہاتھ میں ان کا ہاتھ دیا۔اور ان دونوں کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔اور پھر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سے بیعت کے الفاظ کہلوائے ہے بیعت سے قبل حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نیچری خیالات رکھتے تھے مگر بیعت کے بعد ! اسقدر تغیر پیدا ہوا کہ آپ فرمایا کرتے تھے۔میں نے قرآن بھی پڑھا تھا مولانا نورالدین کے طفیل سے حدیث کا شوق بھی ہو گیا تھا گھر میں صوفیوں کی کتاب میں بھی پڑھ لیا کرتا تھا۔مگر ایمان میں وہ روشنی ، وہ نور معرفت میں ترقی نہ تھی جواب ہے۔اس لئے میں اپنے دوستوں کو اپنے تجربے کی بناء پر کہتا ہوں کہ یا درکھو اس خلیفتہ اللہ کے دیکھنے کے بدوں صحابہ کا سا زندہ ایمان نہیں مل سکتا۔اس کے پاس رہنے سے تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ کیسے موقع پر خدا کی وحی سناتا ہے اور وہ پوری ہوتی ہے تو روح میں ایک محبت اور