حیاتِ نور — Page 152
۱۵۲ قحط الرجال میں ایسا اتفاق محالات کی طرح ہے۔خط سے کچھ معلوم نہیں ہوا کہ ۲۰ مارچ ۱۸۸۹ء تک رخصت ملے گی یا نہیں؟ اگر بجائے ہیں کے بائیں کو آپ تشریف لاویں یعنی یوم یکشنبہ میں اس جگہ ٹھہریں تو بابو محمد صاحب بھی آ سے ملاقات کریں گے۔یہ عاجز ارادہ رکھتا ہے کہ ۱۵ بر مارچ ۸۹ کو دو تین روز کے لئے ہوشیار پور جاوے اور ۱۹ / مارچ یا ۲۰ / مارچ کو بہر حال انشاء اللہ واپس آ جاؤ نگا والسلام۔صاحبزادہ افتخار اور ان کے سب متعلقین بخیر و عافیت ہیں۔کل سات روپیہ اور کچھ پارچہ میرے لئے دیئے تھے جو ان کے اصرار سے لئے گئے۔خاکسار غلام احمد دار البیعت وہ حجرہ جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیعت لی۔حضرت منشی احمد جان صاحب کی ملکیت تھا۔بعد میں یہ حجرہ دار البیعت کے نام سے موسوم ہو ا۔افسوس کر ۱۹۴۷ء کے انقلاب میں وہ سر دست عارضی طور پر جماعت کے قبضہ سے نکل گیا۔مگر ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلد یا بدیر وہ جماعت کومل جائے گا۔و ماڈ لک علی اللہ بعزیز حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب کی بیعت مخلصین بیعت بهر حال ۲۲ / مارچ ۸۹ بیعت کا دن مقرر تھا ملک کے اطراف و جوانب کے لئے لودھیا نہ پہنچ چکے تھے۔حضرت نے اس حجرہ کے دروازہ پر جہاں آپ نے بیعت لی اور جو بعد میں دار البیعت کے نام سے موسوم ہوا۔حضرت شیخ حامد علی صاحب کو مقرر کر دیا اور انہیں ہدایت فرمائی کہ جسے میں کہتا جاؤں اسے اندر بلاتے جاؤ۔چنانچہ حضور نے سب سے پہلے حضرت مولوی حکیم حاجی نورالدین صاحب کو بلوایا۔حضور نے مولوی صاحب کے ہاتھ کی کلائی کو زور سے پکڑا اور بڑی لمبی بیعت لی۔ان دنوں بیعت کے الفاظ یہ تھے۔آج میں احمد کے ہاتھ پر اپنے ان تمام گناہوں اور خراب عادتوں سے تو بہ کرتا ہوں جن میں میں مبتلا تھا اور بچے دل اور پکے ارادہ سے عہد کرتا ہوں کہ جہانتک میری طاقت اور سمجھ ہے اپنی عمر کے آخری دن تک تمام گناہوں سے بچتا رہوں