حیاتِ نور — Page 134
۱۳۴ ہی شکر ادا کیا کہ یہ وہی کتاب ہے جو میں دیکھ چکا ہوں۔میں نے اس کتاب کے جلد جلد ورق الٹنے شروع کئے۔چند منٹ میں اس کے سب ورقوں کو اُلٹ گیا۔پھر میں نے وہ کتاب میاں الہی بخش کے سامنے رکھ دی اور عرض کیا کہ منشاء کیا ہے۔انہوں نے فرمایا کہ آپ اس کتاب کو بہت غور سے پڑھیں۔میں اپنے مولا کی غریب پروری کی کوئی حد نہیں سمجھتا۔اس وقت مجھ کو بڑی خوشی ہوئی۔میں نے کہا کہ میں نے یہ کتاب پڑھ لی۔اگر آپ کہیں تو میں اس کا خلاصہ سُنا دوں اور پھر اس کا جواب نہایت مختصر طور پر عرض کر دوں۔وہاں بہت سے شیعہ مولوی موجود تھے۔سب نے کہا کہ آپ خلاصہ سنائیں۔میں نے اللہ تعالٰی سے محض فضل ہے خلاصہ سُنایا جس کے سننے کے بعد ان شیعوں نے علیحدہ جا کر سر گوشی کی کہ اس شخص سے مباحثہ کرنا ہمارا کام نہیں۔الہی بخش نے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ کھانا لاؤ۔بس پھر کیا تھا! ہمارے شیخ فتح محمد صاحب نے خوب اچھل اچھل کر کہا کہ ہم کھانا نہیں کھاتے۔مباحثہ ہو جائے اور بلاؤ کہاں ہیں تمہارے مباحثہ کرنے والے۔میرے اس خلاصہ کے سُنانے سے یہ فائدہ ہوا کہ مباحثہ کے لئے کوئی سامنے نہ آیا اور اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے دو مباحثہ ٹال دیا۔وہ عجیب تصرفات الہی ہیں۔چونکہ چند روز بعد یہ واقعہ پیش آنے والا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں اس امر کی شدید خواہش پیدا کر دی کہ کتاب طبقات الانوار" کا مطالعہ کر لیا جائے اور پھر آپ نے باوجود سارا دن کام میں مصروف رہنے کے رات بھر اس کا مطالعہ کیا۔اور نہ صرف اس کے مضامین کا خلاصہ نوٹ کر لیا بلکہ اس کے جوابات بھی سوچ لئے۔فالحمد للہ علی ذلک ریاستوں میں چار نقائص آپ نے ریاستی ملازمت میں طویل تجربہ کے بعد ریاستوں میں چار قسم کے نقائص بیان فرمائے ہیں: اول رئیسوں کے خدمت گار جس قدر اجہل ہوں اسی قدر ان کا زیادہ رسوخ ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ تھوڑے سے لالچ کی خاطر اپنے آقا کو زہر دینے تک سے گریز نہیں کرتے۔دوم وہ شرفا کو زیر وزبر کرتے رہتے ہیں۔اس واسطے ارکان وعمائد میں رئیس کی ـور