حیاتِ نور

by Other Authors

Page 133 of 831

حیاتِ نور — Page 133

۱۳۳ در من کنت مولاہ فعلی مولاہ کی بحث پر ہے اور میر حامد حسین صاحب نے سات سو صفحات سے زیادہ پرلکھی ہے۔ایک میر نواب نام لکھنو کے شیعہ وہاں طبیب تھے اور میں نے سُنا کہ یہ کتاب اُن کے پاس ہے۔میں نے اُن سے طلب کی تو انہوں نے کہا کہ رات کے دس بجے آپ لیں۔اور صبح کے چار بجے واپس کر دیں تو میں دے سکتا ہوں۔میں سمجھا کہ یہ میری دن بھر برابر کام کرنے کی عادت سے واقف ہیں۔انہوں نے سوچا ہوگا کہ دن بھر کا تھکا ہوا رات کوسو جائے گا۔کتاب کو کیا دیکھ سکے گا؟ بہر حال میں نے رات کے دس بجے وہ کتاب منگوائی اور محض خدا تعالیٰ کے فضل سے میں جب اس کے مطالعہ اور خلاصہ اور نقل سے فارغ ہو گیا تو میں نے اپنے ملازم کو آواز دی اور پوچھا کہ اب کیا بچا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ابھی چار نہیں بجے۔میں نے کہا کہ حکیم نواب صاحب کی یہ کتاب دے آؤ۔اس خلاصہ کو میں نے ایک نظر پھر بھی دیکھ لیا۔میں حیران تھا کہ اتنی بڑی محنت کیوں کی گئی ہے۔اس خلاصہ کے مکرر دیکھنے میں میں نے اس کے کچھ جوابات بھی سوچ لئے تھے۔تھوڑے ہی دنوں کے بعد ایک دن شیخ فتح محمد صاحب نے کہا کہ میری اور آپ کی آج الہی بخش نام ایک رئیس کے ہاں ضیافت ہے۔میں اور شیخ صاحب دونوں اکٹھے ضیافت کو چلے تو راستے میں شیخ صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ میاں الہی بخش ایک جوشیلے شیعہ ہیں۔انہوں نے کوئی مجتہد بلوایا ہے جس کی آپ کے ساتھ بحث ہوگی اور شرط یہ شہری ہے کہ ہم جس قدرسنی وہاں دعوت میں ہوں گے اگر مباحثہ میں آپ ہار گئے تو ہم کو شیعہ ہونا پڑے گا۔اور پہلے سے اس کا ذکر اس لئے آپ سے نہیں کیا کہ تیاری کر کے آتے تو مزا نہ آتا۔میں نے شیخ صاحب کو بہت ملامت کی کہ ایسی شرطیں نہیں کیا کرتے۔مگر انہوں نے میری باتیں ہنسی میں ہی اُڑا دیں جب وہاں پہنچے تو شیخ شیخ محمد صاحب نے جو بڑے ہی بے تکلف بھی تھے کہا کہ ارے او شیعو الاؤ کہاں ہیں وہ تمہارے بحث کرنے والے مولوی۔چنانچہ کتاب طبقات الانوار میرے سامنے پیش کی گئی۔ابھی تک میں نے مجتہد صاحب کو بھی نہیں پہچانا تھا کیونکہ وہ اس وقت تک میرے سامنے نہیں ہوئے تھے۔میں نے اپنے مولا کا بڑا