حیاتِ نور — Page 122
۱۲۲ راجہ پونچھ پر خدمت گاروں کا قبضہ اب چونکہ آپ کو ریاست میں کام کرتے ہوئے کئی سال گزر چکے تھے اور مہاراجہ جموں و کشمیر اور مہاراجہ پونچھ کے ساتھ آپ کے تعلقات نہایت گہرے ہو چکے تھے اور آپ کو اس امر کی خوب واقفیت ہو چکی تھی کہ راجوں مہاراجوں کے خدمت گار کس طرح انہیں اپنے قابو میں رکھتے ہیں۔آپ نے اس قسم کا ایک واقعہ جو ناظرین کے لئے دلچسپ ہے اور سبق آموز بھی بیان فرمایا ہے کہ ایک مرتبہ راجہ پونچھ جموں میں تشریف لائے ہوئے تھے ، بیمار ہو گئے آپ نے ان کا علاج کیا۔جب آپ واپس تشریف لے جانے لگے تو ایک شخص نے آ کر کہا کہ فلاں خدمتگار آپ کو بلاتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ میر امکان اس کے مکان کے راستہ میں پڑتا ہے۔اسے کہہ دو کہ گھر جاتا ہوا راستہ میں مجھ سے دوا لیتا جائے۔جب اسے یہ پیغام پہنچا تو اس نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے نورالدین تو بہت متکبر ہو گیا ہے اب ہم اسے اپنے راجہ کے پاس نہ آنے دیں گے۔چنانچہ کئی ماہ گزر گئے۔راجہ کی طرف سے آپ کو بلانے کے لئے کوئی آدمی نہ آیا۔ایک دن آپ اپنے مکان کے دروازے پر کھڑے تھے کہ دیکھا کہ وہی خدمتگار کسی اور طبیب کو ہمراہ لئے جارہا ہے۔آپ کے ایک پڑوسی نے آپ کی طرف متوجہ ہو کر ہنستے ہوئے کہا کہ آج اس کی محنت ٹھکانے لگی۔یہ آپ کو بتانا چاہتا تھا کہ آپ کی ضرورت نہیں ہم نے اور طبیب رکھ لیا ہے۔تھوڑے ہی دنوں کے بعد مہا راجہ جموں کو لاہور آنا پڑا۔راجہ پونچھے بھی ہمراہ تھے۔لاہور پہنچ کر ان کی طبیعت سخت مضمحل ہو گئی۔دوسرا طبیب ساتھ تھا نہیں۔مجبوراً آپ ہی کو بلانا پڑا۔جب آپ بلائے گئے تو سخت دوپہر کا وقت تھا۔تنہائی کا وقت پا کر آپ سے فرمایا۔سرکار نے (یعنی ہم نے ) اس سال کا مقررہ روپیہ آپ کو نہیں دیا۔اس لئے ہم دو سال کا روپیہ آپ کو بھیجدیں گے۔آپ نے پوچھا کہ شاید دوپہر کے وقت آپ نے مجھے اس لئے بلایا ہے کہ کہیں وہ خدمتگار مجھے آپ کے پاس آتے دیکھ نہ لے جس نے مجھے اس کے گھر نہ جانے پر کہا تھا کہ اب ہم آپ کو نہیں بلائیں گے اگر آپ اس سے اتنے ہی مرعوب ہیں تو اس بات کا بھی ڈر ہے کہ میرے علاج کرنے پر وہ آپ کو کوئی ضرر نہ پہنچائے۔راجہ صاحب نے فرمایا: ہم تو ان لوگوں سے ڈرتے ہی رہتے ہیں کیونکہ یہ کمینے زہر بھی دیدیتے ہیں۔راجہ صاحب دن بدن کمزور ہوتے گئے حتی کہ واپس ریاست میں پہنچکر ان کا انتقال ہو گیا۔مگر اس خدمتگار کا عروج ابھی مصلحنا باقی تھا۔آپ کو کسی نے کہا کہ آپ کے خلاف ایک مقدمہ ہونے والا ہے۔ولیعہد کا منشا ہے کہ آپ پر یہ مقدمہ بنایا جائے کہ آپ کے علاج کی کسی غلطی کی وجہ سے ان کے