حیاتِ نور — Page 113
گیا۔غرض یہ تو حال تھا حضرت مولوی صاحب گا۔ادھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی کسی ایسے ہی معاون کی ضرورت تھی جو عظیم دینی خدمت کا بوجھ اُٹھانے میں آپ کا ہاتھ بٹا سکے۔آپ کو ایک فاروق کی بشارت بھی مل چکی تھی جو حضرت مولوی صاحب کے وجود میں پوری ہوئی۔آپ اپنی مشہور کتاب آئینہ کمالات اسلام میں اپنی دعا اور اس کی قبولیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” جب سے میں اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے مامور کیا گیا ہوں اور حی و قیوم کی طرف سے زندہ کیا گیا ہوں دین کے چیدہ مددگاروں کی طرف شوق کرتا رہا ہوں اور وہ شوق اس شوق سے بڑھ کر ہے جو ایک پیاسے کو پانی کی طرف ہوتا ہے اور میں رات دن خدا تعالیٰ کے حضور چلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اے میرے رب ! میرا کون ناصر و مددگار ہے۔میں تنہا اور ذلیل ہوں۔پس جبکہ دعا کا ہاتھ پے در پے اُٹھا اور آسمان کی فضا میری دعا سے بھر گئی تو اللہ تعالیٰ نے میری عاجزی اور دعا کو قبول کیا اور رب العالمین کی رحمت نے جوش مارا۔اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک مخلص صدیق عطا فرمایا جو میرے مددگاروں کی آنکھ ہے اور میرے ان مخلص دوستوں کا خلاصہ ہے جو دین کے بارے میں میرے دوست ہیں۔اس کا نام اس کی نورانی صفات کی طرح نورالدین ہے۔وہ جائے ولادت کے لحاظ سے بھیروی اور نسب کے لحاظ سے قریشی ہاشمی ہے جو کہ اسلام کے سرداروں میں سے اور شریف والدین کی اولاد میں سے ہے۔پس مجھ کو اس کے ملنے سے ایسی خوشی ہوئی کہ گویا کوئی جدا شدہ عضو مل گیا اور ایسا سرور ہوا جس طرح کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ملنے سے خوش ہوئے تھے۔اور جب وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے ملا اور میری نظر اس پر پڑی تو میں نے اس کو دیکھا کہ وہ میرے رب کی آیات میں سے ایک آیت ہے۔اور مجھے یقین ہو گیا کہ میری اسی دعا کا نتیجہ ہے جس پر میں مداومت کرتا تھا اور میری فراست نے مجھے بتادیا کہ وہ اللہ تعالٰی کے منتخب بندوں میں سے ہے۔تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب پہلی مرتبہ ۱۸۸۴ء میں الله