حیاتِ نور

by Other Authors

Page 112 of 831

حیاتِ نور — Page 112

اشعار پر ہے۔میں نے فورا اللہ تعالیٰ کے حضور لبیک کہا۔اور اس عظیم الشان احسان پر اس کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں گر گیا۔اے ارحم الراحمین خدا! تیری حمد ، تیرا شکر اور تیرا احسان ہے۔پھر میں نے مہدی الزمان کی محبت کو اختیار کر لیا اور آپ کی بیعت صدق دل سے کی یہانتک کہ مجھے آپ کی مہربانی اور لطف و کرم نے ڈھانپ لیا اور میں دل کی گہرائیوں سے ان سے محبت کرنے لگا۔میں نے انہیں اپنی جائداد اور اپنے سارے اموال پر ترجیح دی بلکہ اپنی جان ، اپنے اہل وعیال اور والدین اور اپنے سب عزیز واقارب پر انہیں مقدم جانا۔ان کے علم و عرفان نے میرے دل کو والہ وشیدا بنا لیا۔اس خدا کا شکر ہے جس نے میرے لئے ان کی ملاقات مقد رفرمائی۔اور یہ میری خوش بختی ہے کہ میں نے انہیں باقی سب لوگوں پر ترجیح دی اور میں ان کی خدمت کے لئے اس جاں نثار کی طرح کمر بستہ ہو گیا جو کسی میدان میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا۔پس اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھ پر احسان فرمایا اور وہ بہتر احسان کرنے والا ہے۔66 اس کے بعد آپ نے حضرت اقدس سیدنا مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعریف میں پچیس پر مشتمل ایک قصیدہ لکھا ہے۔جس کے پہلے دواشعار یہ ہیں: فَوَ اللَّهِ مُذْ لا قَيْتُهُ زَادَنِي الْهُدَى وَعَرَّفْتُ مِنْ تَفْهِيْمِ أَحْمَدَ أَحْمَدًا ترجمه: وَكَمْ مِنْ عُوَيْضٍ مُشْكِلٍ غَيْرِ وَاضِحٍ آنَارَ عَلَيَّ فَصُرْتُ مِنْهُ مُسَهَّدَا بخدا جب سے میں نے حضرت اقدس سے ملاقات کی ہے آپ کی فیض کی برکت سے میں نے رشد و ہدایت میں بہت ترقی حاصل کی ہے اور اس احمد ( یعنی مسیح موعود ) کو پہچان کر مجھے اُس احمد ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) کی شان کا پتہ لگا اور قران شریف کے کئی مشکل مقامات تھے جو مجھے پر واضح نہ تھے لیکن آپ نے مجھ پر اُن کو روشن کر دیا اور اس وجہ سے میں روحانی طور پر بیدار ہو