حیاتِ نور

by Other Authors

Page 111 of 831

حیاتِ نور — Page 111

ـور THE ترک کر دیا ہے اور ان کی بجائے انگریزی علوم اور یور چین زبانوں کو اختیار کر لیا ہے اور انہوں نے مومنوں کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کو اپنا دلی دوست اور راز دار بنا لیا ہے۔چھ کروڑ سے زائد رسالے اور کتابیں اسلام اور مسلمانوں کے مقابلہ میں شائع ہو چکی ہیں۔اس مصیبت کے باوجود ہم اس زمانے کے مشائخ اور اُن کے پیروؤں کو یہ کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ دین اسلام کی دعوت دینا اور مخالفین اسلام سے مناظرات کرنا اہل کمال اور اصحاب یقین کے دستور کے خلاف ہے اور ہمارے علماء الا ماشاء اللہ ان حالات کو جانتے تک نہیں۔جن میں سے دین اور اہل دین گزر رہے ہیں اور متکلمین کی تحقیق کی انتہاء یہ ہے کہ وہ مسئلہ امکان کذب الباری اور اس کے امتناع پر اپنے اوقات صرف کر رہے ہیں۔کافروں کا منہ بند کرنے کے لئے اور معاندوں کی تدبیروں کا ازالہ کرنے کے لئے نہیں۔اس شکوہ کے ساتھ ہم اپنے استاد اور شیخ جلیل رحمت اللہ الہندی المکی اور ڈاکٹر وزیر خاں رحمہم اللہ تعالیٰ اور امام ابوالمنصور دہلوی اور نہایت ذہین اور ہوشیار سید محمد علی کا نپوری اور علامہ مصنف تنزیہہ القرآن اور ان جیسے دوسرے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی کوشش کو نوازے۔وھو خیر الشاکرین۔لیکن ان تمام لوگوں کا جہاد مخالفین اسلام کی ایک شاخ کے ساتھ تھا۔اور وہ بھی آسمانی نشانوں اور الہی بشا رات کے ساتھ نہ تھا۔مجھے ایسے کامل مرد کے دیکھنے کا انتہائی شوق تھا جو یگانہ روزگار ہو اور میدان میں تائید دین اور مخالفین کا منہ بند کرنے کے لئے سینہ سپر ہو کر کھڑا ہونے والا ہو۔پس جب میں اپنے وطن کی طرف لوٹا تو میں نہایت پریشان اور حیران تھا۔دن کے اوقات سفر میں بسر کرتا اور مجھے نہایت طلب اور جستجو تھی اور میں صادقوں کی ندا کا منتظر تھا۔اسی اثناء میں مجھے حضرت السید الاجل اور بہت ہی بڑے علامہ اس صدی کے مجدد مہدی الزماں مسیح دوران اور مؤلف براہین احمدیہ کی طرف سے خوشخبری ملی۔میں ان کے پاس پہنچا تا حقیقت حال کا مشاہدہ کروں۔میں نے فورا بھانپ لیا کہ یہی موعود حکم و عدل ہے اور یہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تجدید دین کے لئے مقرر فرمایا