حیاتِ نور — Page 92
۹۲ بلکہ اس ملک کے رواج کے مطابق جب وہ ملک صاحب کے گھٹنوں کو ہاتھ لگانے لگا تو ملک صاحب نے فرمایا کہ میرے گھٹنوں کو ہاتھ لگانے کی ضرورت نہیں۔آپ ہمارے پیر صاحب کے قدم لیں۔چنانچہ وہ آپ کی طرف بڑھا اور مراسم تعظیم بجا لایا۔پھر میانوالی کے رئیس میاں سلطان علی تشریف لائے اور ملک صاحب نے ان سے بھی اسی طرح آپ کی طرف جھکنے کو کہا اور آپ سے مخاطب ہو کر کہا کہ یہ گویا میرا بیٹا ہے آپ اسے کچھ وعظ کریں۔آپ کی چند نصیحت آمیز باتیں سنکر وہ ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو گئے اور عرض کی کہ مجھے کچھ ارشاد فرمائیے۔وہ چونکہ مولوی عبداللہ چکڑالوی کے مقدمہ میں آئے ہوئے تھے اور ان کا ارادہ کچھ خطر ناک تھا۔اس لئے آپ نے فرمایا کہ آپ چلے جائیں۔بس یہی ارشاد ہے۔پیرا بواحمد صاحب جن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔بہت ہی بلند پایہ بزرگ تھے۔انہوں نے بغیر کسی قسم کے تعلق کے ایام طالب علمی میں آپ پر بڑے بڑے احسان کئے۔ملک فتح خاں صاحب کا سلوک بھی گو نہایت ہی شریفانہ تھا۔لیکن ایک تو وہ آپ کے ہموطن تھے۔دوسرے ان کے ساتھ طبیبانہ تعلقات بھی تھے۔بہر حال آپ فرماتے ہیں کہ میں ان سب کے بدلہ میں ان کے لئے دعا کرتا ہوں“۔" امامت کے حصول کے لئے ایک ملا کا کنواں بنوانے کا ارادہ بھیرہ میں ایک ملا آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں ایک مسجد میں کنواں بنوانا چاہتا ہوں۔آپ میری امداد کریں۔آپ کو ملا کی اس ہمت اور عزم پر بڑی خوشی ہوئی۔آپ نے اسی وقت اُٹھ کر اس محلہ والوں کو چندہ کی تحریک کی مگر وہ تیار نہ ہوئے۔اس کے چند ہی روز بعد میونسپلٹی والوں نے ان کے گھروں کے سامنے سڑک نکالی۔جس کی وجہ سے ان کے دروازوں کے سامنے ذرا بھی صحن نہ رہا۔اور سڑک کے پار کی زمین پر ہندوؤں نے قبضہ کر لیا۔اب وہ بہت گھبرائے۔وہی نمبردار جو پہلے کنواں بنوانے کا سب سے زیادہ مخالف تھا، دوڑا دوڑا آپ کے پاس آیا اور کہا حضرت! آئیے۔اس کنویں کی اینٹ آپ اپنے ہاتھ سے رکھیں۔آپ کو اس کے رویہ کی اس اچانک تبدیلی پر بڑا تعجب ہوا۔چنانچہ آپ نے اصل حقیقت معلوم کرنے کے لئے ملا کو بلوایا۔ملا نے بتایا کہ سڑک کے دوسری جانب کی زمین پر ہندوؤں نے قبضہ کر لیا ہے۔اس لئے جب تک آپ اُن کو نہ کہیں نہ کنواں بن سکتا ہے اور نہ ہندو یز میں ان کو دے سکتے ہیں ہندو آپ کا بڑالحاظ کرتے تھے۔آپ نے انہیں کہا کہ نصف زمین ان کو دے دو تا یہ کنواں وغیرہ بنالیں۔انہوں نے آپ کی یہ بات فورا تسلیم کر لی۔کنواں بھی بن گیا اور مل