حیاتِ نور — Page 93
۹۳ صاحب کو اس مسجد کی امامت بھی مل گئی۔اس وقت آپ کو معلوم ہوا کہ ملا جی کی یہ ساری دوڑ دھوپ حصول ثواب کے لئے نہیں بلکہ مسجد کی امامت سنبھالنے کی لئے ہی تھی۔مخلوق پر بھروسہ نہ کرنے کا سبق دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ جب کسی انسان پر اپنا فضل نازل کر کے اسے کوئی اعلی مرتبہ دینا چاہتا ہے تو اس کی تربیت کے سامان بھی پیدا کر دیتا ہے۔حضرت مولوی صاحب رضی اللہ عنہ کو چونکہ آئندہ چل کر ایک عظیم الشان رُوحانی جماعت کا امام بنا مقدر تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے حالات میں سے گزارا۔جن کی وجہ سے آپ کے دل سے اعتماد علی المخلوق بالکل اُڑ گیا اور خدا تعالیٰ پر توکل آپ کی فطرت میں گوٹ کوٹ کر بھر دیا گیا۔بطور مثال آپ کی زندگی کے دو واقعات درج ذیل ہیں۔آپ فرماتے ہیں: پہلا واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص کو محرقہ آپ تھی اور وہ ایک بڑا امیر کبیر آدمی تھا۔میں نے اس کے علاج میں بہت بڑا ئی زور لگایا۔اور مجھ کو یقین تھا کہ ساتویں دن اس کو بحران ہو جائے گا۔ساتو میں روز کی رات میں شام ہی سے اس کو خوب اضطراب شروع ہوا۔اور میں نے اس کو فال نیک سمجھا۔اس کے گھر والے تو اس علم سے ناواقف تھے۔انہوں نے رات ہی کو پنڈ دادنخاں کے ایک خاندانی طبیب بنام حکیم کرم علی کو نکما یا۔وہ آخر شب وہاں پہنچا۔بڑا تجربہ کار آدمی تھا۔اس کو یقین ہو گیا کہ مریض کے عوارض تو رو به انحطاط ہیں۔اب بحران شروع ہونے والا ہے۔آتے ہی اپنے پاس سے ایک پڑیا بہت جلدی نکال کر وہاں بید مشک رکھا ہوا تھا۔اس کے ساتھ کھلائی اور میری طرف دیکھ کر ہنسا اور اُن سے کہا یہ کیا آپ ہے ابھی ہماری پڑیا سے ٹوٹ جائے گا۔کچھ وقفہ کے بعد اس کو بحران شروع ہوا۔گھر والوں نے سمجھا کہ اس حکیم کے پاس اکسیر کی پڑیا تھی۔والا نور الدین کو آج چھ روز ہوئے ، کس قدر اس نے زور لگایا ہے اور ذرا بھی فائدہ نہ ہوا۔اور آج کی رات تو بڑی تکلیف کی رات تھی۔اس حکیم نے بھی بحران کے بعد بہت بڑا انعام مانگا۔مجھ کو یہ انعام ملا کہ مخلوق پر بھروسہ نہ کرنا۔الحمدللہ رب العالمين آپ فرماتے ہیں: