حیاتِ نور

by Other Authors

Page 90 of 831

حیاتِ نور — Page 90

۹۰ مطمئن ہو کر واپس اپنے مکان پر تشریف لے آئے کیونکہ گوند کتیر انے اسے بہت فائدہ دیا تھا۔حضرت پیر ابو احمد صاحب مجددی کا حسن سلوک حضرت پیر ابو احمد صاحب مجددی کو جب بیگم صاحبہ کی دھمکی کا علم ہوا تو انہوں نے ایک عورت کے ہاتھ بہت سا سونے کا زیور اور کپڑے بھیجے۔وہ عورت آئی اور بدوں کچھ کہے گٹھڑی رکھ کر بھاگ گئی۔آپ نے جب اُسے کھول کر دیکھا تو وہ قیمتی کپڑوں اور زیوروں سے بھری ہوئی تھی۔تھوڑی دیر کے بعد ایک اور عورت اتنی ہی چیزیں اور لے کر آ گئی اور رکھ کر چلی گئی۔آپ نے منشی ہدایت اللہ صاحب سے فرمایا کہ دیکھو تو سہی یہ کون عورتیں ہیں اور کیا بات ہے۔ایک معاملہ تو طے نہیں ہوا۔یہ کہیں دوسرا تو نہیں کھڑا کیا جارہا۔ان کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ عورتیں ابو احمد صاحب کے گھر سے آئی تھیں۔کچھ وقفہ کے بعد حضرت پیر صاحب بھی تشریف لے آئے اور بہت جھنجھلا کر فرمایا کہ آپ ابھی تک یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں۔یہاں بڑا افساد ہونے والا ہے، ہمارے گھر چلو۔آپ نے فرمایا۔وہ لڑکا انشاء اللہ تعالیٰ اچھا ہو جائے گا۔اور کوئی فساد وغیرہ نہ ہو گا۔تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے کہا کہ یہاں رہنے کی ضرورت کیا ہے۔پھر فرمایا کیا ہمارے گھر والوں نے زیور نہیں بھیجا۔جس قدر رو پیدان لوگوں سے لیا ہے سب واپس کر دو۔آپ فرماتے ہیں کہ تب مجھ کو اس زیور وغیرہ کی حقیقت معلوم ہوئی۔میں ان کی نیکی، وسعت حوصلہ ، شرافت اور خوبیوں کا کوئی اندازہ نہیں کر سکا اور اس وقت بھی نہیں کر سکتا۔دھمکی کے لحاظ سے وقت بڑا خطرناک تھا۔بہر حال وہ لڑکا خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھا ہو گیا۔اور جو سلوک میرے ساتھ پیر صاحب نے کیا وہ ایسا نہیں جس کا بدلہ میں اُتار سکوں۔اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ ہی اُتارے گا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ پیر صاحب اُن کی اولاد اور ان کی بیوی کو اپنی جناب سے بہت بہت اجر عطا فرمائے۔یہ قصہ اس قصہ کے لگ بھگ ہے جو رام پور میں ایک پٹھان کلن خاں نے عبد القادر خاں پر تلوار سونت لی تھی۔اگر ذرا بھی عبد القادر خاں ٹھہرتا تو کن خاں اسے مار ہی دیتا۔قصه سفر سیکیسر ایسا ہی ایک واقعہ آپ کو اپنے وطن مالوف میں پیش آیا۔جس میں ملک فتح خاں صاحب نے ور