حیاتِ نور

by Other Authors

Page 89 of 831

حیاتِ نور — Page 89

ــور A انہوں نے فرمایا کہ آپ ضرور ٹھہریں اور گھر کے لئے پانسو کا نوٹ بھیجدیں۔میں بہت گھبرایا کہ ہم تو بارہ سو کے مقروض ہو کر نکلے تھے اور یہ تو پانسو ہی دیتے ہیں۔شاید وہ جگہ نہیں جہاں ہمیں جانتا ہے۔خیر میں نے وہ نوٹ تو اس ہندو کو بھجوا دیا اور گھر میں لکھا کہ آپ مطمئن رہیں۔تھوڑے ہی دنوں کے بعد منشی صاحب نے سات سو روپیہ اور دیا اور مجھ سے کہا کہ جس طرح ممکن ہو۔آپ بھوپال تک چلیں۔میں نے سمجھا کہ میرا قرضہ تو پورا ہو ہی گیا ہے۔اب جہاں چاہیں جاسکتے ہیں۔ھوپال میں دوسری مرتبہ چنانچہ آپ بھو پال تشریف لے گئے۔منشی صاحب مرحوم نے آپ کے گزارہ کے لئے کچھ ماہانہ اپنے پاس سے اور کچھ سرکار سے مقرر کرا دیا۔اور فرمایا کہ لوگوں سے بھی فیس لے لیا کریں اور اس طرح آپ کو وہاں بہت آرام ملا۔آپ فرماتے ہیں کہ میں اب تک منشی صاحب کے واسطے بہت دعائیں کیا کرتا ہوں"۔حضرت غشی صاحب کے نواسے کا روغن جمالگو نہ پینا اور اس کی والدہ کی طرف سے دھمکی بھوپال میں اس مرتبہ آپ کو ایک سخت ابتلا پیش آیا اور وہ یوں کہ نواب صدیق حسن خاں مرحوم کی بیوی کے بیٹے اور حضرت منشی جمال الدین صاحب کے نواسے محمد عمر نے جو آپ سے علاج کروا رہے تھے۔جمال گوٹہ کے تیل کی شیشی اٹھالی اور آپ سے کہا میں پیتا ہوں۔آپ نے فرمایا۔یہ خطرناک زہر ہے ایسا نہ ہو ہلاک ہو جاؤ اور ساتھ ہی ہم بھی ہلاک ہوں۔لیکن اس نے ذرا بھی پروانہ کی اور چند قطرے پی گیا۔آپ کو گھبراہٹ تو بہت پیدا ہوئی مگر کیا ہوسکتا تھا۔بے اختیار آپ کی زبان سے یه فقره نكلا که فُعِلَ مَا قدر - تھوڑی دیر کے بعد اس کی حالت دگرگوں ہو گئی بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ڈاکٹر اور حکیم بھی بہت آگئے۔آپ بھی بلوائے گئے۔اب وہ میاں صاحب یہ بھی نہ کہیں کہ اس فعل کے ذمہ داروہ خود ہیں اور کہ حکیم صاحب کا اس میں ذرہ بھی دخل نہیں اور نہ آپ نے بتایا۔آپ اپنے ساتھ گوند کتیر اپیس کر لے گئے تھے۔جاتے ہی آپ نے فرمایا کہ معاملہ تو پیچھے ہو گا جب ہو گا۔اس وقت ان کو یہ پلا دیا جائے۔اس کی اماں ایسی گھبرائی جس کا کچھ اندازہ نہیں ہوسکتا آپ کو کچھ دھمکی بھی دی۔مگر