حیاتِ نور — Page 751
ربانی نیست خلفنہم میں مذکور اور خدا کے علم و قدرت اور قوت و شوکت کے ذکر کے ساتھ اس میں بتاکید بتایا گیا ہے کہ خلیے خدا بنایا کرتا ہے۔انسان کی ذاتی خواہش ، مسامی یا جوڑ توڑ اور حیلے منصوبوں کو اس عالی مقام کے حصول میں قطعاً کوئی دخل اور تصرف نہیں بلکہ گرچہ بھا گئیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار سو ظنی، بدظنی اور بہتان طرازی اور افتراپردازی کا دنیا میں کوئی جواب ہوا نہ ہوگا۔میرے آقا فداہ روحی پر بھی دنیا کے فرزندوں نے بدظنیاں کیں، بہتان باندھے اور اعتراضات کئے مگر آپ نے صرف یہی جواب دیا کہ ور میں جواب دینے سے معذور ہوں اور موجودہ صورت میں اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ سوائے اس کے کہ یہ کہوں کہ خدا تعالیٰ شاہد ہے اور میں اس کو حاضر و ناظر جان کر اس کی قسم کھاتا ہوں کہ میں نے کبھی اس امر کی کوشش نہیں کی کہ میں خلیفہ ہو جاؤں ، نہ یہ کہ کوشش نہیں کی بلکہ کوشش کرنے کا خیال بھی میرے دل میں نہیں آیا اور نہ میں نے کبھی یہ امید ظاہر کی اور نہ میرے دل نے کبھی خواہش کی اور جن لوگوں نے میری نسبت یہ خیال پھیلایا ہے۔انہوں نے میرا خون کیا ہے وہ میرے قاتل اور خدا کے حضور وہ الزامات کے جوابدہ ہوں 21۔ـور حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کے چشمدید حالات اور اعتراضات کرنے والوں کے جواب میں حضرت خلیفہ المسح الثانی کی وضاحت درج کرنے کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الاول کی تجھیز و تکفین کے بقیہ حالات درج کئے جاتے ہیں۔"الفضل" میں لکھا ہے: پونے پانچ بجے حضرت مولانا نورالدین صاحب خلیفہ اسیج کا جنازہ کھلے میدان میں پڑھا گیا۔گیارہ صفیں تھیں اور ہر صف میں قریباً ایک سو ساٹھ آدمی۔عورتوں کی بھی تین صفیں تھیں۔دوسو کے قریب ہوں گی۔پھر جنازہ اٹھایا گیا اور مقبرہ بہشتی میں دائیں طرف (بجانب غرب ) آپ کو سوا چھ بجے کے قریب دفن کیا گیا۔اگرچہ چودہ سو آدمیوں کے قریب تو اسی وقت بیعت ہو چکے تھے مگر اس