حیاتِ نور — Page 750
۷۴۵ " ” جب دیر تک کوئی آواز میرے کان میں نہ پڑی تو میں نے بوجھ تلے دبا ہوا اپنا سرزور کر کے اٹھایا۔لوگوں کے ہاتھوں کی اوٹ دور کر کے جھانکا۔مظہر خلافت کی طرف نظر کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور گویا میری ہی تلاش میں تھے۔دیکھ کر فرمایا۔مولوی صاحب! مجھے تو الفاظ بیعت بھی یاد نہیں۔بے خیالی میں اچانک اور غیر متوقع یہ بار مجھ پر آن پڑا ہے۔آپ الفاظ بیعت بولتے جائیں۔چنانچہ مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ میں الفاظ بیعت بولتیا گیا اور حضرت دوہراتے گئے اور اس طرح حضور نے بیعت لی اور ایک لمبی دعا کے بعد مختصری تقریر فرمائی اور اس طرح بکھری ہوئی اور پریشان جماعت خدا کے فضل سے دوبارہ متحد ہو کر سلک وحدت میں پروئی گئی۔قلوب پر سکینت اور رحمت الہی کا نزول ہوا۔رقت کا جو عالم تھا اس کا نہ کر قوت بیان سے باہر ہے۔اس کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے حضرت سیدنا نورالدین کا جنازہ حضرت نواب صاحب کی کوٹھی اور ہائی سکول کے درمیانی میدان میں پڑھا۔رجوع خلق ہو کر ہجوم اس قدر بڑھا کہ گویا فرشتے بھی شریک نماز تھے۔جنازہ اٹھا تو کوٹھی اور باغ تک خلق خدا کا ایک تانتا بندھ گیا۔ہندو سکھ، مسلمان ، احمدی اور غیر احمدی بلکہ عیسائی اور خاکروب بھی عورت کیا مرد اور بچے بوڑھے گھروں کو چھوڑ کر آگئے تھے۔خدا کی لاکھوں لاکھ اور کروڑوں کروڑ رحمتیں اور برکات نازل ہوتی رہیں ہمیشہ ہمیش مرحوم انسان اس کے مطاع اور مطاع کے مطاع نیز اولاد پر۔آمین ثم آمین الغرض ۱۴؍ مارچ ۱۹۱۴ء کا مبارک دن خدائے بزرگ بالا و برتر کے وعدوں کا دن ، جلال اور شان کے ظہور کا دن، اولیاء امت اور صلحاء اسلام کے اقوال کی تصدیق کا دن ، سید تا مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا سے ملی ہوئی بشارات کے پورا ہونے کی گھڑیاں اور حضرت سید تا نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بار بار کے اشاروں کنایوں اور فرمودات کی تکمیل کی وہ ساعات سعیدہ تھیں جن کو خلافت ثانیہ کا قیام اور خدا کی دوسری قدرت کا ظہور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور یہی وہ نعمت افضل الہی کی ردا اور موہیت کا ملہ مقدسہ ہے۔جس کا وعدہ فرمان