حیاتِ نور

by Other Authors

Page 746 of 831

حیاتِ نور — Page 746

ات نور ۷۴۱ لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کرلوں مگر اس پر بھی انہوں نے یہی جواب دیا کہ نہیں آپ جانتے ہیں کہ ان لوگوں کی کیا رائے ہے۔یعنی وہ آپ کو خلیفہ مقرر کریں گے۔اس پر میں اتفاق سے مایوس ہو گیا اور میں نے سمجھ لیا کہ کہ خدا تعالیٰ کا منشاء کچھ اور ہے کیونکہ باوجود اس فیصلہ کے جو میں اپنے دل میں کر چکا تھا میں نے دیکھا کہ یہ لوگ صلح کی طرف نہیں آتے اور مولوی صاحب کے اس فقرہ سے میں یہ بھی سمجھ گیا کہ مولوی محمد علی صاحب کی مخالفت خلافت سے بوجہ خلافت کے نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ ان کے خیال میں جماعت کے لوگ کسی اور کو خلیفہ بنانے پر آمادہ تھے اور یہی بات درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس سے چھ سال پہلے وہ اعلان کر چکے تھے کہ مطابق فرمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مندرجہ رسالہ الوصیت ہم احمدیان جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں اس امر پر صدق دل سے متفق ہیں کہ اول المهاجرین حضرت حاجی مولوی حکیم نور الدین صاحب جو ہم سب سے اعلم اور اتنی ہیں اور حضرت امام کے سب سے زیادہ مخلص اور قدیمی دوست ہیں اور جن کے وجود کو حضرت امام علیہ السلام اسوہ حسنہ قرار فرما چکے ہیں جیسا کہ آپ کے شعر چه خوش بودے اگر ہر یک زامت دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بو دے سے ظاہر ہے، کے ہاتھ پر احمد کے نام پر تمام احمد کی جماعت موجودہ اور آئندہ نے نمبر بیعت کریں اور حضرت مولوی صاحب موصوف کا فرمان ہمارے لئے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ و السلام کا تھا۔یہ اعلان جماعت کے بہت سے سر بر آوردہ لوگوں کی طرف سے فردا فردا ہر ایک کے دستخط کے ساتھ ہوا تھا جن میں مولوی محمد علی صاحب بھی تھے۔یہ تحریر ۲ جون ۱۹۰۸ کے بدر میں بغرض اعلان شائع کی گئی تھی۔۲۷ مئی ۱۹۰۸ کو حضرت خلیفہ المسیح اول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بطور درخواست پیش کی گئی تھی اور "