حیاتِ نور — Page 730
ـور ۷۲۵ بزرگوں کو جب بیعت لینے کے لیے کہا تو یہ فرمایا کہ اس کی غرض یہ ہے کہ سب لوگوں کو دین واحد پر جمع کیا جاوے اس سے بھی صاف مفہوم سلسلہ میں داخل کرنے کا نکلتا ہے نہ بیعت تو بہ کا ( صفحہے) دوم۔دوسری بات جو میں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ جو لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہیں ان کو بار بار از سر نوکسی شخص کی بیعت کی ضرورت نہیں۔(صفحہ ۱۳۔۱۴) سوم۔تیسری بات جو میں ضروری طور پر آپ کو پہنچانی چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ مجلس معتمدین صدرانجمن احمد یہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ہاتھوں سے قائم کیا اپنی وصیت میں اسے اپنا جانشین قرار دیا۔اس کے لئے دعائیں کیں اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے قائم کرنے کے پونے دو سال بعد اور اپنی وفات سے صرف آٹھ نو ماہ پیشتر یہ تحریر اپنے ہاتھ سے لکھ کر دی کہ اس انجمن کے فیصلے آپ کے بعد بالکل قطعی ہوں گے۔صرف بعض دینی امور کو مستثنے کیا کہ شاید کوئی ایسا امر ہو جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع ملے ورنہ باقی امور کو انجمن کے سپرد کیا۔اس انجمن کو توڑنے کے لئے حضرت خلیفہ اسیح کے ابتدائی ایام خلافت میں بڑی کوششیں کی گئیں۔اور آخری کوشش بڑے زور شور سے یہ کی گئی کہ قواعد میں اس امر کو درج کیا جائے کہ جو کوئی خلیفہ فیصلہ کرے، اس کے تمام فیصلے انجمن کے لئے قابل تعمیل ہوں اور وہ انجمن کے ممبروں میں ہے جس کو چاہے نکال دیا کرے اور جسے چاہے داخل کر لیا کرے۔جو دراصل انجمن توڑنے کے ہم معنی ہے۔میں قوم کو اس خطرناک عنصر کے ارادوں اور منصوبوں سے صفائی سے اطلاع دیتا ہوں کہ اگر اس بات کو اب پھر اٹھایا جائے تو ساری قوم کا فرض ہے کہ اس کا زور سے مقابلہ کرے۔یہ سلسلہ پر وہ حملہ ہو گا جو اس کو بنیادوں تک صدمہ پہنچائے گا اور حضرت مسیح موعود کے ہاتھ کے لگائے ہوئے پودے کو جڑوں سے اکھیڑ دیگا۔(صفحہ ۱۴۔۱۵) چہارم۔چوتھی بات جو میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ مسئلہ کفر و اسلام میں خدا سے ڈر کر منہ سے لفظ نکالو۔(صفحہ ۱۵-۱۶)