حیاتِ نور — Page 723
۷۱۸ لیا کہ ایک واجب الاطاعت خلیفہ ہونا چاہیئے۔اور فوری طور سے ان کا تقرر و انتخاب لازمی ہے۔تب بھی قصہ ختم اور معاملہ صاف۔اور اگر انہوں نے میری اس تجویز سے اتفاق نہ کیا اور آپ کی تجویز کے مطابق کسی دوسرے وقت کے اجتماع اور مشورہ پر معاملہ کو اٹھا رکھنے کا فیصلہ کیا۔تب بھی اختلاف قائم اور فیصلہ مشکل۔پھر اس صورت میں ہم دونوں کل دس بجے مل کر غور و فکر کریں گے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیئے۔چنانچہ مولوی صاحب آخر اس بات پر رضا مند ہو گئے ہیں کہ وہ اپنے دوستوں سے مشورہ کر کے کل دس بجے پھر ملیں گئے“۔ہے اس گفتگو کی مزید وضاحت اس گفتگو سے متعلق جو بیان حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالی نے دیا ہے اس میں چونکہ بعض باتون کی زیادہ وضاحت ہے اس لئے اس جگہ پر اس حصہ کو بھی درج کر دینا تاریخی اہمیت کے لحاظ سے ضروری ہے۔آپ فرماتے ہیں: مولوی محمد علی صاحب نے مجھ سے ذکر کیا کہ چونکہ ہر ایک، کام بعد مشورہ ہی اچھا ہوتا ہے اور حضرت خلیفہ المسیح الاول کی وفات کے بعد جلدی سے کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے۔بلکہ پورے مشورے کے بعد کوئی کام ہونا چاہئے۔میں نے کہا کہ جلدی کا کام بیشک برا ہوتا ہے اور مشورہ کے بعد ہی کام ہونا چاہئے۔لوگ بہت سے آ رہے ہیں اور کل تک امید ہے۔ایک بڑا گر وہ جمع ہو جائے گا۔پس کل جس وقت تک لوگ جمع ہو جائیں مشورہ ہو جائے۔جو لوگ جماعت میں اثر رکھتے ہیں وہ قریب قریب کے ہی رہنے والے ہیں اور کل تک امید ہے کہ پہنچ جاویں گے۔مولوی صاحب نے کہا کہ نہیں اس قدر جلدی ٹھیک نہیں۔چونکہ اختلاف ہے اس لئے پورے طور پر بحث ہو کر ایک بات پر متفق ہو کر کام کرنا چاہئے۔چار پانچ ماہ اس پر تمام جماعت غور کرے۔تبادلہ خیالات کے بعد پھر جو فیصلہ ہو اس پر عمل کیا جاوے۔میں نے دریافت کیا کہ اول تو سوال یہ ہے کہ اختلاف کیا ہے؟ پھر یہ سوال ہے اس قدر عرصہ میں بغیر کسی رہنما کے جماعت میں فساد پڑا تو ذمہ دار کون ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے موقعہ پر بھی اسی طرح ہوا تھا کہ جو لوگ جمع ہو گئے تھے۔انہوں نے مشورہ کر