حیاتِ نور — Page 712
ور حضرت اماں جی کی قدرو منزلت کا سب سے بڑا پہلو یہ ہے کہ وہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ تھیں۔حضرت خلیفہ اول کے اخلاق اور روحانی مقام کے بعض پہلو ایسے دلکش ہیں کہ ان کے تصور سے ہی انسان کے جسم وروح میں ایک خاص کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور قرآن مجید کے ساتھ آپ کا غیر معمولی مقام عشق اور خدا کی ذات واحد پر غیر معمولی تو کل اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اطاعت کا عدیم المثال جذبہ وہ بلندشان رکھتا ہے جس کے تصور سے میں نے بیشمار دفعہ خالص روحانی سروبہ حاصل کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت مولوی صاحب کو غیر معمولی محبت اور قدر سے دیکھتے تھے۔چنانچہ ان کے متعلق حضور کا یہ شعر جماعت میں شائع و متعارف ہے کہ چه خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے اور ایک دوسرے موقعہ پر حضور نے ان کے متعلق لکھا جس کے الفاظ غالباً کچھ اس طرح ہیں کہ حضرت مولوی صاحب کا قدم میری اطاعت میں اس طرح چلتا ہے۔جس طرح دل کی حرکت کے ساتھ نبض چلتی ہے۔یہ ایک بہت بڑا مقام ہے اور ایسے عظیم المرتبت انسان کی رفیقہ حیات کی وفات حقیقتا ایک قومی صدمہ ہے حضرت پیر افتخار احمد صاحب فرماتے ہیں: حضرت خلیفة المسیح اول رضی اللہ عنہ کی اس بیماری میں جس میں حضور نے وفات پائی، خاکسار خدمت میں حاضر ہوا۔میں نے دل میں خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ حضور کی دعائیں قبول فرماتا ہے۔میں حضور کی صحت کے لئے حضور ہی سے دعا کے لئے عرض کروں۔یہ سوچ کر میں نے عرض کی کہ حضور صوفیاء کا مقولہ ہے کہ حیات صوفی غنیمت است ہم برائے خویش و ہم برائے دیگر اں۔میری یہ التجا ہے کہ حضور اپنی صحت کے لئے آپ ہی دعا کریں۔حضور نے میری عرض سن کر فرمایا: