حیاتِ نور — Page 707
۷۰۲ ا- م۔خلیفہ المسیح نے محمڈن یونیورسٹی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اشتراک کا ہم نے فیصلہ کر دیا ہے۔مشترک امور میں مل کر کام کرنا ضرور ہے مگر امتیاز قائم رکھنا بھی ضروری ہے۔اس کے لئے چار وجوہ ہیں۔امتیاز ترقی کا موجب ہوتا ہے۔امتیاز نہ رہے تو قوم گھل مل کر تباہ ہو جاتی ہے۔اگر کسی کے ماں باپ یا زمین کا مقدمہ کسی امام مسجد کے ساتھ ہوتو لوگوں کا دستور ہے کہ اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔پس جب ہمارے مامور من اللہ کو یہ لوگ جھوٹا سمجھتے ہیں تو ہماری غیرت کس طرح برداشت کر سکتی ہے کہ ان کو اپنا امام صلوۃ بنالیں۔جب تک تمیز نہ ہو نہ امر بالمعروف رہتا ہے نہ نہی عن المنکر۔تمہارے لیکچروں کی عزت بھی احمدی نام سے ہی ہوتی ہے۔خود نام رکھنا بھی ترقی کا موجب ہوتا ہے۔جب کوئی قوم ممتاز ہوتی ہے تو قوم اس کی مخالفت کرتی ہے۔پھر جوں جوں مخالفت ہوتی ہے اس امتیاز بننے والے کو سعی از دعا کا موقعہ ملتا ہے۔یا درکھو جک مشکلات پیش نہ آویں، دعا اور کوشش کا موقعہ نہ ملے ترقی نہیں ہو سکتی۔سعی ، کوشش ، جہاد، دعا کے لئے مشکلات ضرور ہیں۔صلح کل میں نہیں ہو سکتا۔۳۵ آپ کی آخری وصیت ۴ / مارچ ۱۹۱۴ ء اب چونکہ آپ کی طبیعت دن بدن مضمحل ہو رہی تھی۔اس لئے آپ نے ۱۴ مارچ ۱۹۱۷ء کو عصر کے قریب لیٹے لیٹے ایک وصیت تحریر فرمائی جو قلم کی خرابی کی وجہ سے اچھی طرح لکھی نہ گئی تو حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کو اور قلم لانے کا حکم دیا۔چنانچہ مولوی صاحب نے دیسی قلم پیش کیا تو پ نے پوری وصیت لکھی اور اس وصیت پر خود بھی دستخط کئے اور معتمدین صدر انجمن نے بھی۔گواس وصیت کا ذکر پیچھے کئی جگہ مجملاً آچکا ہے مگر وصیت کے الفاظ کہیں درج نہیں ہوئے لہذا اس جگہ وصیت کے الفاظ درج کئے جاتے ہیں: د و بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد و فصلی علیٰ رسولہ الکریم خاکسار بقائمی حواس لکھتا ہے۔لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ۔میرے بچے چھوٹے ہیں۔ہمارے گھر میں مال نہیں۔ان کا اللہ حافظ ہے۔ان کی پرورش یتامی و